سندھ ہائیکورٹ نے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017ء کے تحت حکومت خود انکوائری کرا سکتی ہے، انکوائری ایکٹ کے تحت سابق جج یا کسی قانونی ماہر پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ گل پلازہ کی انکوائری سے متعلق جوڈیشل انکوائری کیلئے خط کا جواب دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ کی انکوائری سے متعلق گورنر کے پرنسپل سیکرٹری کا خط سندھ ہائیکورٹ کو موصول ہوگیا ہے۔ جس پر عدالت نے اپنا تحریری جواب بھی گورنر سندھ کے پرنسپل سیکرٹری کو ارسال کردیا۔ سندھ ہائیکورٹ نے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017ء کے تحت حکومت خود انکوائری کرا سکتی ہے، انکوائری ایکٹ کے تحت سابق جج یا کسی قانونی ماہر پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری نہیں۔

عدالت نے مزید کہا کہ حاضر سروس افسر سے انکوائری کے حوالے سے سپریم کورٹ عابد شاہد زبیری بنام وفاقِ پاکستان کیس میں پہلے ہی معیارات طے کر چکی ہے۔ خط میں دی گئی درخواست سپریم کورٹ کے 2023ء کے فیصلے کے مطابق نہیں۔ سندھ ہائیکورٹ نے اپنے جواب میں کہا کہ پرنسپل سیکرٹری کو چاہیئے کہ یہ خط گورنر سندھ کو پیش کرے۔ واضح رہے کہ سانحہ گل پلازہ کی انکوائری سے متعلق گورنر سندھ کے پرنسپل سیکرٹری نے سندھ ہائیکورٹ کو 27 جنوری کو خط لکھا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سندھ ہائیکورٹ نے پرنسپل سیکرٹری سانحہ گل پلازہ کے تحت

پڑھیں:

خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم

پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔

پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔

احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔

فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن