میران شاہ میں شمالی وزیرستان کے ملک و مشران اور عمائدین کا اہم جرگہ ضلعی انتظامیہ کی موجودگی میں پاک فوج کے زیر انتظام منعقد ہوا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق جی او سی میرانشاہ میجر جنرل عادل افتخار نے جرگے کے شرکا کا استقبال کیا اور شمالی وزیرستان میں امن و خوشحالی کے لیے قبائلی عمائدین اور مشران کے کلیدی کردار کو سراہا۔

یہ بھی پڑھیں: یومِ تشکر: شمالی وزیرستان کے قبائلی مشران کا خصوصی جرگہ، افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

جرگے میں علاقے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور شرکا کو علاقے میں سرگرم دہشتگرد عناصر کی جانب سے امن کو نقصان پہنچانے کی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔

خوارج کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں اور مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچانے کے خلاف لائحہ عمل اور اقدامات پر مشاورت کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان سے پولیو کے خاتمے سے متعلق اہم اعلان؟

قبائلی عمائدین نے فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک سیکورٹی فورسز کے ساتھ تعاون اور شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کو دہرایا۔

جرگے کا اختتام قومی یکجہتی اور سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاکستان جرگہ شمالی وزیرستان قبائلی عمائدین میران شاہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان جرگہ شمالی وزیرستان قبائلی عمائدین میران شاہ شمالی وزیرستان

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست