لاہور:

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے بھاٹی گیٹ کے قریب خاتون اور بچی کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوس ناک واقعے میں خاتون کے خاوند کو حراست میں لینے اور تشدد کی اطلاعات پر ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے خلاف کارروائی شروع کردی۔

ڈی آئی جی کی جانب سے ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل کردیا گیا ہے اور ڈی ایس پی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔

ایس پی سٹی نے بتایا کہ متعلقہ پولیس کے رسپانس کا تعین کے لیے اعلی سطح کی تحقیقات ہوں گی اور ڈی آئی جی آپریشنز نے آئی اے بی کو آزادانہ انکوائری کے لیے خط لکھ دیا، انکوائری میں خاوند اور دیور کو حراست میں لینے کی محرکات کا تعین ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ریسکیو کال پر گرفتاری کیوں کی اس کی بھی جانچ ہوگی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت کے مطابق اے آئی بی کو جلد از جلد تحقیقات مکمل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، تحقیقات کی روشنی میں افسوس ناک رویے میں ملوث تمام افسران کے خلاف سخت ایکشن ہوگا۔

واقعے کے بعد ٹریفک پولیس کی ذمہ داریوں میں اضافہ

لاہور میں کھلے مین ہول میں گرنے سے ماں بیٹی کی ہلاکت کے واقعے کے بعد ٹریفک پولیس کی ذمہ داریوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

نئی ذمہ داریوں کے تحت ٹریفک وارڈنز بغیر ڈھکن گٹر اور مین ہول ڈھونڈیں گے، ٹریفک وارڈنز بغیر ڈھکن مین ہول اور گٹروں کی تصاویر بنا کر رپورٹ کریں گے۔

ٹریفک پولیس کو بذریعہ وائرلیس میسج آگاہ کر دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تمام وارڈنز اپنے ٹریفک سیکٹرز میں بغیر ڈھکن گٹروں کی نشان دہی کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گیا ہے

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار