data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور:پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین ایک بار پھر ٹیم خریدنے کے خواہشمند نظر آرہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق علی ترین نے ملتان سلطانز کے حقوق کی دوبارہ نیلامی میں حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس سلسلے میں باضابطہ طور پر اپنی دستاویزات بھی جمع کرا دی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل انتظامیہ کی جانب سے ملتان فرنچائز کی متوقع بڈنگ کے لیے مختلف سرمایہ کاروں اور کاروباری گروپس نے دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں علی ترین کا نام نمایاں ہے، علی ترین اس سے قبل بھی ملتان سلطانز کے مالک رہ چکے ہیں اور ان کے دورِ ملکیت میں ٹیم نے پی ایس ایل کا ٹائٹل جیت کر نمایاں کامیابی حاصل کی تھی، جس کے باعث شائقین کرکٹ میں ان کی واپسی کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ علی ترین نے کچھ عرصہ قبل ملتان سلطانز کی ملکیت برقرار رکھنے سے انکار کر دیا تھا اور پی ایس ایل میں شامل کی جانے والی دو نئی ٹیموں کی بڈنگ میں بھی حصہ لینے کا اعلان کیا تھا، آخری لمحات میں انہوں نے نئی ٹیموں کی بڈنگ سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس موقع پر علی ترین نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر وہ دوبارہ پی ایس ایل میں آئے تو صرف جنوبی پنجاب کی نمائندگی کے لیے آئیں گے۔

ذرائع کے مطابق علی ترین کا ماننا ہے کہ ملتان سلطانز نہ صرف ایک مضبوط ٹیم ہے بلکہ جنوبی پنجاب کے عوام کی جذباتی وابستگی بھی اس فرنچائز سے جڑی ہوئی ہے، جسے وہ دوبارہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے قریبی ذرائع کے مطابق ملتان فرنچائز کی نیلامی 8 یا 9 فروری کو کیے جانے کا امکان ہے۔ اس نیلامی میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی متوقع ہے، تاہم علی ترین کی شمولیت کے باعث مقابلہ مزید سخت ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پی ایس ایل شائقین اور خاص طور پر ملتان سلطانز کے مداحوں کے لیے علی ترین کی ممکنہ واپسی ایک خوش آئند خبر سمجھی جا رہی ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ملتان سلطانز کے پی ایس ایل علی ترین

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ