حج ویزہ کے لیے سعودی بائیو میٹرک لازمی، گھر بیٹھے ایپ کے ذریعے بھی کی جاسکتی ہے، وزارت مذہبی امور
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
وزارت مذہبی امور نے سعودی حج ویزہ کے لیے بائیو میٹرک کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ ترجمان وزارت نے کہا کہ تمام عازمین حج ’سعودی ویزہ بائیو‘ ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے اپنی بائیو میٹرک جلد مکمل کریں۔
https://play.google.com/store/apps/details?id=sa.gov.mofa.saudivisabio&pcampaignid=web_share
مزید پڑھیں: سعودی وزارت حج و عمرہ کا عرفاتِ جبل پر زائرین کے لیے آگاہی اور رہنمائی پروگرام جاری
وزارت کے مطابق حج ویزہ کے حصول کے لیے سعودی بائیو میٹرک کروانا لازمی ہے۔ اگر کسی عازم حج کے لیے ایپ کے ذریعے بائیو میٹرک ممکن نہ ہو سکے تو وہ قریبی سعودی تاشیر سینٹرز سے 8 فروری سے قبل بائیو میٹرک مکمل کروا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: حج کوٹہ 2 لاکھ 30 ہزار کرنے کے لیے سعودی حکام سے رابطے میں ہیں، وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف
ترجمان نے خبردار کیا کہ بائیو میٹرک مکمل نہ ہونے کی صورت میں حج ویزہ نہیں جاری کیا جائے گا۔ مزید براں، سعودی تاشیر سینٹرز کی تفصیلات اور بائیو میٹرک کے لیے رہنمائی پاک حج موبائل ایپ پر دستیاب ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حج سعودی بائیو میٹرک سعودی حج ویزہ وزارت مذہبی امور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سعودی بائیو میٹرک سعودی حج ویزہ بائیو میٹرک حج ویزہ کے لیے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔