مشہور ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر علینہ عامر نے حالیہ دنوں گردش کرنے والی ایک نازیبا ویڈیو پر خاموشی توڑتے ہوئے اسے مکمل طور پر جعلی اور ڈیپ فیک قرار دیا ہے۔

علینہ نے کہا کہ یہ ویڈیو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کی گئی ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

انسٹاگرام پر جاری وضاحتی پیغام میں علینہ عامر نے بتایا کہ ابتدا میں انہوں نے اس معاملے کو نظرانداز کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ وہ خود ذہنی طور پر اس سے زیادہ متاثر نہیں تھیں، تاہم جب انہوں نے دیکھا کہ مبینہ ویڈیو سیکڑوں پوسٹس میں بار بار شیئر کی جا رہی ہے تو انہیں لگا کہ اب بات کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا کہ کسی بھی مواد کو پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق کرنا انتہائی اہم ہے۔ علینہ عامر کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ دوسروں کو بدنام کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، اس لیے کم از کم اتنی احتیاط تو کی جائے کہ جو ویڈیو یا خبر آگے بڑھائی جا رہی ہے وہ اصل ہے یا نہیں۔

اس موقع پر انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بھی اپیل کی کہ ڈیپ فیک یا مصنوعی ویڈیوز بنانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ خصوصاً لڑکیوں کو اس طرح کی مہمات سے تحفظ مل سکے۔

آخر میں علینہ عامر نے اعلان کیا کہ اگر کوئی شخص اس جعلی ویڈیو کے بنانے والے یا پھیلانے والے سے متعلق قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرتا ہے تو اسے نقد انعام دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد نہ صرف مجرموں تک پہنچنا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی بھی کرنا ہے۔

 

 

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل علینہ عامر انہوں نے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم