لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سانحہ داتا دربار پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے پنجاب حکومت، پولیس نظام اور اختیارات کے موجودہ ڈھانچے پر کڑی تنقید کی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں نام نہاد "گڈ گورننس" اور "تھانہ کلچر" کا پول ایک ہی واقعے نے کھول کر رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق ایک حادثے کو پہلے "فیک نیوز" قرار دیا گیا اور پھر مظلوم شہری کو مجرم ثابت کرنے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جب تمام حربے ناکام ہوگئے اور حقیقت سامنے آگئی تو نمائشی کارروائی کرتے ہوئے عدالت لگائی گئی اور چند افسران کو برطرف کرنے کا شاہی فرمان جاری کر دیا گیا، لیکن اصل مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔

گھر میں گیس لیکج کے باعث 4 افراد دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے

امیر جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ آخر تھانے کو یہ جرات اور اختیار کس نے دیا کہ وہ ایک مظلوم شہری پر تشدد کرے؟ انہوں نے پنجاب میں بااختیار نچلی سطح کے بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر میونسپل سروسز کا ذمے دار عوام کو جوابدہ منتخب کونسلر یا یونین کونسل چیئرمین ہوتا تو ایسے واقعات پیش نہ آتے۔ انہوں نے وزیراعظم کے مشیر کے بیان پر بھی تنقید کی جنہوں نے یہ کہہ کر ذمہ داری سے جان چھڑانے کی کوشش کی کہ گٹر پر ڈھکن لگانے کی ذمہ داری وزیراعلیٰ کی نہیں بلکہ یونین کونسل کی ہے۔

عمران خان کی  آنکھ کی جس بیماری کا بتایا جا رہا ہے اس کے علاج کے لیے پمز میں ڈاکٹر ہی موجود نہیں، ڈاکٹر عاصم یوسف

انہوں نے سوال کیا کہ اگر یونین کونسل ذمہ دار ہے تو اس کا منتخب چیئرمین کہاں ہے؟ اختیارات کا مرکز و محور ایک ہی خاندان کیوں بنا ہوا ہے؟

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو اداکاری اور نمائشی اقدامات کی نہیں بلکہ ایک نئے نظام کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق تمام اختیارات ایک خاندان کے ہاتھ میں رکھنے کا نظام اب مزید نہیں چل سکتا اور اسے بدلنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان انہوں نے

پڑھیں:

دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس  ہوا جس دوران  دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ  ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔

کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔

وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات

مزید :

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا