تمام اختیارات ایک خاندان کے ہاتھ میں رکھنے کا نظام اب مزید نہیں چل سکتا، حافظ نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سانحہ داتا دربار پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے پنجاب حکومت، پولیس نظام اور اختیارات کے موجودہ ڈھانچے پر کڑی تنقید کی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں نام نہاد "گڈ گورننس" اور "تھانہ کلچر" کا پول ایک ہی واقعے نے کھول کر رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق ایک حادثے کو پہلے "فیک نیوز" قرار دیا گیا اور پھر مظلوم شہری کو مجرم ثابت کرنے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جب تمام حربے ناکام ہوگئے اور حقیقت سامنے آگئی تو نمائشی کارروائی کرتے ہوئے عدالت لگائی گئی اور چند افسران کو برطرف کرنے کا شاہی فرمان جاری کر دیا گیا، لیکن اصل مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔
گھر میں گیس لیکج کے باعث 4 افراد دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے
امیر جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ آخر تھانے کو یہ جرات اور اختیار کس نے دیا کہ وہ ایک مظلوم شہری پر تشدد کرے؟ انہوں نے پنجاب میں بااختیار نچلی سطح کے بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر میونسپل سروسز کا ذمے دار عوام کو جوابدہ منتخب کونسلر یا یونین کونسل چیئرمین ہوتا تو ایسے واقعات پیش نہ آتے۔ انہوں نے وزیراعظم کے مشیر کے بیان پر بھی تنقید کی جنہوں نے یہ کہہ کر ذمہ داری سے جان چھڑانے کی کوشش کی کہ گٹر پر ڈھکن لگانے کی ذمہ داری وزیراعلیٰ کی نہیں بلکہ یونین کونسل کی ہے۔
عمران خان کی آنکھ کی جس بیماری کا بتایا جا رہا ہے اس کے علاج کے لیے پمز میں ڈاکٹر ہی موجود نہیں، ڈاکٹر عاصم یوسف
انہوں نے سوال کیا کہ اگر یونین کونسل ذمہ دار ہے تو اس کا منتخب چیئرمین کہاں ہے؟ اختیارات کا مرکز و محور ایک ہی خاندان کیوں بنا ہوا ہے؟
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو اداکاری اور نمائشی اقدامات کی نہیں بلکہ ایک نئے نظام کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق تمام اختیارات ایک خاندان کے ہاتھ میں رکھنے کا نظام اب مزید نہیں چل سکتا اور اسے بدلنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔