پاکستانی عوام ایران کیساتھ ہیں، دشمن ناکام رہے گا، حافظ ریاض نجفی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ممتاز عالم دین نے کہا کہ ایرانی قوم اللہ سے ڈرتی ہے، وہ کسی اور سے خوفزدہ نہیں ہو سکتی، ایران نے پہلے بھی امریکہ کا مقابلہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے فتح و نصرت عطا فرمائی۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلاب اسلامی کے قیام ہی سے ایران امریکی استبداد کا مقابلہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا سرپرست اور فلسطینیوں کی نسل کشی میں برابر کا مجرم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر رضا امیری مقدم سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اتفاق پایا گیا کہ پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، ہمارے دشمن اور دوست مشترکہ ہیں۔ ملاقات میں علامہ مرید حسین نقوی، ڈاکٹر سید محمد نجفی اور مولانا لعل حسین خان توحیدی بھی موجود تھے۔ حافظ ریاض نجفی نے کہا پاکستانی عوام ایرانی حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں، دشمن ناکام رہے گا، امریکہ دباو کے حربے کے طور پر جنگی بحری بیڑے بھیج رہا ہے اور جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا ایرانی قوم اللہ سے ڈرتی ہے، وہ کسی اور سے خوفزدہ نہیں ہو سکتی، ایران نے پہلے بھی امریکہ کا مقابلہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے فتح و نصرت عطا فرمائی۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلاب اسلامی کے قیام ہی سے ایران امریکی استبداد کا مقابلہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا سرپرست اور فلسطینیوں کی نسل کشی میں برابر کا مجرم ہے، اسی لئے وہ ایران کو فلسطین کی حمایت سے ہٹانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا ایرانی عوام، حکومت اور سائنسدان کامیاب ہوں گے، کسی صورت ایران اپنے مقاصد سے پیچھے نہیں ہٹے گا، ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے حافظ ریاض نجفی کی آمد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایران، پاکستانی حکومت اور عوام کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کا عالمی حالات پر موقف ایک ہے اور صدیوں پرانے برادرانہ تعلقات بھی ہیں۔ ان شاءاللہ ان تعلقات میں مزید مضبوطی پیدا ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کا مقابلہ رہا ہے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔