ایران پر ممکنہ امریکی حملہ، چین نے خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی فوجی دھمکیوں میں اضافہ کر دیا ہے اور ایران نے بھی کسی بھی حملے کا جواب دینے کا عہد کیا ہے، ایسے میں چین نے مشرق وسطیٰ میں فوجی مہم جوئی کے خلاف خبردار کیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو چونگ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ طاقت کا استعمال مسائل حل نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی فوجی مہم جوئی خطے کو نامعلوم نتائج کی گہرائیوں میں دھکیلنے کے سوا کچھ نہیں کرے گی۔
اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے اعلان کیا کہ امریکی حملے کی صورت میں تہران کا ردعمل بے مثال ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق یہ بیان امریکی صدر کے اس انتباہ کے فوراً بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران کے پاس وقت ختم ہو رہا ہے۔
ایرانی مشن نے ”ایکس“پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ایران احترام اور باہمی مفادات پر مبنی مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اگر اسے دباؤ کا نشانہ بنایا گیا تو وہ اپنا دفاع کرے گا اور بے مثال جواب دے گا۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ٹرمپ نے ایران پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئے اور جوہری ہتھیاروں کے بارے میں ایک معاہدہ کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اگلا امریکی حملہ کہیں زیادہ شدید ہوگا۔
گزشتہ روز ایرانی سرکاری میڈیا نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حوالے سے بتایا تھا کہ انہوں نے گزشتہ چند دنوں میں امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی مذاکرات کی درخواست کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز