ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی جگہ کس کی حکومت ہوگی؟ امریکی وزیر خارجہ نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی جگہ نئی قیادت لانے کا عندیہ دے چکے ہیں اور اب یہ معاملہ پہلی بار امریکی سینیٹ میں زیر بحث لایا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے سینیٹ کمیٹی نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت ختم ہونے کے بعد کے لائحہ عمل کے بارے میں سوال کیا گیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے سینیٹ ارکان نے پوچھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ایران میں اقتدار کس کے ہاتھ میں آئے گا۔
جس پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ کوئی منجمد کھانا نہیں کہ مائیکروویو میں رکھیں اور ڈھائی منٹ بعد تیار ہو جائے۔
انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ یہ نہایت پیچیدہ معاملات ہیں۔ کسی کے پاس اس کا سادہ جواب نہیں کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ایران میں کیا ہوگا۔
تاہم مارکو روبیو نے ایرانی دھمکیوں کے جواب میں کہا کہ امریکا خطے میں موجود اپنے ہزاروں امریکی اہلکاروں اور تنصیبات پر ایرانی حملوں کو پیشگی روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن امید ہے اس کی نوبت نہیں آئے گی۔
امریکی وزیر کارجہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری پروگرام پر سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی متعدد جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے جن سے ایرانی جوہری صلاحیتوں کو نمایاں دھچکا لگا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا یت اللہ خامنہ ای امریکی وزیر مارکو روبیو ایران میں
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔