data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برطانوی خبر رساں ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کو تقویت دینے کے مقصد سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں اس معاملے پر اعلیٰ سطح پر مشاورت جاری ہے اور مختلف عسکری آپشنز زیرِ بحث ہیں، تاہم تاحال کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی حکام ایران کی سکیورٹی فورسز اور اہم قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملوں کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں، صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کیے گئے آپشنز میں ایک بڑے اور مؤثر حملے کی تجویز بھی شامل ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق ممکنہ طور پر ایسے بیلسٹک میزائل مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے جن کی رسائی مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادی ممالک تک بتائی جاتی ہے، اس کے علاوہ ایران کی حساس جوہری تنصیبات پر حملے کا امکان بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر اس وقت یہ طے کرنے کے مرحلے میں ہیں کہ آیا ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کی جائے یا دباؤ کی دیگر حکمتِ عملیاں اختیار کی جائیں۔

اسی سلسلے میں صدر ٹرمپ اپنے قریبی مشیروں اور اتحادیوں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ممکنہ نتائج اور خطے کی صورتحال کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ایران میں ایسے حالات پیدا کیے جائیں جو حکومت کی تبدیلی کی راہ ہموار کریں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے سخت کریک ڈاؤن کیا گیا، جس کے دوران ہزاروں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، اور یہی صورتحال امریکی پالیسی سازوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران میں کے مطابق

پڑھیں:

انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران

ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔

ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل