موہن جو دڑو میں تاریخی پیش رفت، شہر کی حفاظتی فصیل دریافت
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
سندھ کے عالمی شہرت یافتہ قدیم شہر موہن جو دڑو میں جاری کھدائی کے دوران ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو ایک اہم اور غیر معمولی دریافت ہوئی ہے، جسے شہر کی حفاظت کے لیے بنائی گئی فصیل (دیوار) قرار دیا جا رہا ہے۔
محکمہ نوادرات و آرکیالوجی سندھ کے مطابق مرکزی شہر کے گرد کچی اینٹوں سے بنی ایک مضبوط فصیل دریافت کی گئی ہے۔ یہ کھدائی پاک امریکا مشترکہ آثارِ قدیمہ مشن کے تحت جاری ہے، جس کی نگرانی امریکی پروفیسر جوناتھن مارک کینویئر اور ماہرِ آثارِ قدیمہ علی لاشاری کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق 1950 اور 1951 میں برطانوی ماہر آثارِ قدیمہ سر مارٹر وہیلر نے اس ساخت کو محض کچی اینٹوں کی بنیاد قرار دیا تھا، تاہم حالیہ کھدائی اور زمینی تہوں کے نئے شواہد سے واضح ہوا ہے کہ یہ دراصل شہر کی حفاظتی فصیل تھی۔
تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فصیل غالباً تجارت کو منظم کرنے، آمد و رفت کو کنٹرول کرنے اور شہر کے مجموعی انتظامی و منصوبہ بندی کے نظام کے تحت تعمیر کی گئی تھی، جو موہن جو دڑو کی شہری ذہانت اور منظم معاشرتی ڈھانچے کو ظاہر کرتی ہے۔
صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت و نوادرات سید ذوالفقار علی شاہ نے اس اہم دریافت پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی سندھ کے تاریخی ورثے کی عالمی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس دریافت سے نہ صرف تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ سیاحت کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
انہوں نے پاک امریکا مشترکہ آثارِ قدیمہ مشن کو بین الاقوامی تعاون کی ایک شاندار مثال قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں مزید اہم انکشافات سامنے آئیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔