بھارت ‘یورپی یونین تجارتی معاہدے پر معاشی ماہرین کو تشویش
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) معاشی ماہرین نے بھارت اور یورپی یونین کے مابین آزاد تجارتی معاہدہ کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارت اور یورپی یونین کے مابین آزاد تجارتی معاہدہ(ایف ٹی اے) پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو نقصان پہنچاسکتا ہے جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے امریکہ کے بعد یورپی یونین پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات کے لیے اہم ترین منزل ہے ۔اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے ) پاکستان کی برآمدات پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کی مجموعی برآمدات کا 24 فیصد حصہ جس میں زیادہ تر ٹیکسٹائل شامل ہے یورپی مارکیٹ سے وابستہ ہے۔ اس حوالے سے ٹیکسٹائل سیکٹر کی معروف شخصیت اور ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر حنیف لاکھانی نے کہا کہ بھارتی ٹیکسٹائل برآمدات پر اس وقت جی ایس پی اسکیم کے تحت 8 سے 12 فیصد ٹیرف عائد ہے، جو گزشتہ ہفتے معطل کر دی گئی تھی، جبکہ پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے تحت زیرو ٹیرف کی سہولت حاصل ہے۔ اب اس نئے معاہدے کے بعد پاکستان اپنی وہ مسابقتی برتری کھو سکتا ہے جو پہلے ہی بہت کم تھی، کیونکہ بھارت کو ویلیو ایڈیشن اور بہتر پیداواری نظام کی وجہ سے فائدہ حاصل ہے،پاکستان یورپی یونین کو تقریباً 9 ارب ڈالر کی اشیاء برآمد کرتا ہے، جن میں سے 65 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات ہیں۔ ایف پی سی سی آئی کے ایک اور سابق نائب صدر اور ماہرمعیشت کیپٹن عبدالرشید ابڑو نے اس معاہدے کے اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یورپی مارکیٹ میں پاکستان کی پہلے سے کمزور مسابقت کو اب وجود برقرار رکھنے کے خطرے کا سامنا ہے، حالیہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں یورپی یونین کو پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات 6.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یورپی یونین پاکستان کی برا مدات کہ بھارت
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔