پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والی تین میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کے براڈکاسٹ اور کمنٹری پینل کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

پی سی بی کے مطابق سابق آسٹریلوی ٹیسٹ اوپنر سائمن کیٹچ اس سیریز میں بطور کمنٹیٹر فرائض انجام دیں گے۔ ان کے ساتھ قومی کرکٹ کے معروف نام عامر سہیل، رمیز راجہ، بازید خان اور عروج ممتاز بھی کمنٹری پینل کا حصہ ہوں گے۔

سیریز کے دوران پی سی بی کے پچ سائیڈ اسٹوڈیو کی میزبانی زینب عباس کریں گی جبکہ پری اور پوسٹ میچ شوز میں کرکٹ ماہرین اپنے تجزیے پیش کریں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز جمعرات سے ہوگا جبکہ دوسرا اور تیسرا ٹی ٹوئنٹی میچ بالترتیب 31 جنوری اور یکم فروری کو کھیلا جائے گا۔ سیریز کے تمام میچز شام 4 بجے شروع ہوں گے۔

مزید پڑھیں

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم ٹی 20 سیریز میں شرکت کیلئے لاہور پہنچ گئی

جیسن گلیسپی کی پاکستان کرکٹ میں واپسی کا امکان، کس ٹیم کے ہیڈکوچ ہوں گے؟

پی سی بی کے مطابق سیریز کی ہائی ڈیفینیشن براڈکاسٹنگ 28 کیمروں کے ذریعے کی جائے گی جس میں بگی کیم، ہاک آئی اور الٹرا ایج جیسی جدید ٹیکنالوجیز شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ ڈی آر ایس ٹیکنالوجی بھی تینوں میچز میں دستیاب ہوگی۔

پاکستان میں شائقین کرکٹ یہ میچز براہِ راست پی ٹی وی اسپورٹس پر دیکھ سکیں گے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی سیریز کے پی سی بی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا