’ملکی صنعتیں سسٹم کی نا اہلی کا مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں‘ گوہر اعجاز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
سٹی 42 : سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ یورپی یونین انڈیا تجارتی معاہدہ پاکستان کی صنعتوں کے لیے بڑا خطرہ ہے، یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو ملنے والا ہنی مون پیریڈ ختم ہوگیا، ای یو انڈیا تجارتی معاہدے سے پاکستان کی 9 ارب ڈالرز کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ متاثر ہو سکتی ہیں۔
سابق نگراں وفاقی وزیر سعر چیئرمین ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے یورپی یونین اور انڈیا کے درمیان ہونیوالے حالیہ تجارتی معاہدے کو پاکستان کی صنعتوں کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔ گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو ملنے والا ہنی مون پیریڈ ختم ہوگیا پاکستان سمیت تمام علاقائی ممالک پر اب زیرو ٹیرف کا اطلاق ہوگا، اس سے قبل پاکستان کے لیے یورپی یونین نے زیرو ٹیرف فراہم کیا ہوا تھا۔
پاکستان کا ایک اور بڑا اعزاز؛ اقتصادی تعاون تنظیم کی باضابطہ چیئرمین شپ سنبھال لی
گوہر اعجاز نے کہا کہ یورپی یونین اور انڈیا کے تجارتی معاہدے سے پاکستان کی 9 ارب ڈالرز کی ایکسپورٹس متاثر ہوسکتی ہیں اور اس معاہدے سے ایک کروڑ لوگ بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بچانے کے لیے آج ہی فیصلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو علاقائی نرخوں پر بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ صنعتوں پر ٹیکسز کی شرح علاقائی ممالک کے برابر کی جائے۔ صنعتوں کی کاروباری لاگت کو ہمسایہ ممالک کے برابر کیا جائے۔ ملکی صنعتیں سسٹم کی نا اہلی کا مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں۔
ٹرین لیٹ۔۔طالبہ امتحان سے محروم۔۔ریلوے کو 27 لاکھ جرمانہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: گوہر اعجاز نے یورپی یونین پاکستان کی سے پاکستان نے کہا کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔