سعودیہ اور ایئر انڈیا کے درمیان کوڈ شیئر معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جدہ (کامرس ڈیسک) سعودیہ، جو مملکت سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی ہے، اور ایئر انڈیا، بھارت کی صفِ اول کی عالمی ایئرلائن، دونوں ایک کوڈ شیئر معاہدے پر دستخط کرچکے ہیں، جو فروری 2026 سے شروع ہوگا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ایئرلائنز کے مسافروں کو بہتر فضائی رابطہ، سفر کے وسیع مواقع، آسان بکنگ، بہتر سفری تجربہ اور سیاحت اور کاروباری سفر سمیت مختلف شعبوں میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔اس شراکت داری کے ذریعے مسافر ایک ہی ٹکٹ اور سفری منصوبے کے تحت آسان بکنگ، بہتر کنیکشنز اور سامان کی براہِ راست ترسیل اپنی آخری منزل تک باآسانی حاصل کر سکیں گے اس کوڈ شیئر معاہدے کے تحت سعودیہ کے مسافروں کو ممبئی اور دہلی کے ذریعے بھارت کے بڑے شہروں تک رسائی حاصل ہوگی، جن میں احمد آباد، بنگلورو، کولکتہ، کوچی، حیدرآباد، چنئی، لکھنؤ، جے پور اور 15 سے زائد دیگر مقامات شامل ہیں۔اسی طرح، ایئر انڈیا کے مسافر جو جدہ یا ریاض پہنچیں گے، وہ سعودیہ کی پروازوں کے ذریعے دمام، ابہا، قصیم، جیزان، مدینہ اور طائف کے لیے باآسانی آگے کا سفر کر سکیں گے۔ جدہ، ریاض روٹ پر کوڈ شیئر پروازوں کے اضافے سے مسافروں کو ایک شہر میں آمد اور دوسرے شہر سے روانگی کی مزید سہولت میسر آئے گی۔ مزید بین الاقوامی مقامات کو بھی رواں سال کے دوران شامل کیا جائے گا۔مسٹر، انجینئر ابراہیم العمر، ڈائریکٹر جنرل، سعودیہ گروپ نے کہا’’ایئر انڈیا کے ساتھ کوڈ شیئر معاہدہ ایک اہم اسٹرتیجک قدم ہے، جو دونوں ایئرلائنز کی طویل تاریخ اور اپنے اپنے ممالک کے درمیان فضائی روابط کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس شراکت سے مسافروں کو زیادہ مقامات تک آسان رسائی حاصل ہوگی اور سفر کا مجموعی تجربہ مزید بہتر ہوگا‘‘۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایئر انڈیا مسافروں کو کوڈ شیئر
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔