وفاقی وزیر تعلیم اور ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ غیر آئینی نہیں اور اگر یہ بات غداری ہے تو اس  شق کو آئین سے نکال دیںْ

یہ بات انھوں نے این ای ڈی یونیورسٹی کراچی میں وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت منعقدہ پروگرام کے بعد ذرائع ابلاغ کے سوالات کے جواب میں کہی۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سانحہ گل پلازہ کی تحقیقاتی رپورٹ پر ہم تو کیا خود سندھ حکومت بھی مطمئن نہیں ہے۔ اردو یونیورسٹی کی موجودہ بدترین صورتحال پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے لیے دو بار فنڈز بنا کر دے چکے ہیں، یونیورسٹی کی بد انتظامی پر انکوائری رپورٹ جلد آنی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کے لوگ تعلقات رکھتے ہیں اور اپنی سفارش لے کر آجاتے ہیں۔

ایچ ای سی اسلام آباد میں چیئرمین کی تقرری میں غیر معمولی تاخیر پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم نے چیئرمین کے انتخاب کا کام شفاف طریقے سے کیا اور سمری وزیر اعظم کو بھجواچکے ہیں سمری ابھی تک ہمیں واپس نہیں ملی، اب وزیر اعظم سے اس معاملے پر پوچھیں گے کیونکہ اس اہم ترین تعلیمی منصب کو مزید خالی نہیں رینا چاہیے۔

قبل ازیں وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے ثمرات کراچی تک پہنچ رہے، کراچی نے پاکستان بنانے اور چلانے کا وعدہ کیا ہے، وزیر اعظم پاکستان کے شکر گزار ہیں کہ سندھ کے طلبہ تک لیپ ٹاپ پہنچائے جارہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 40 سال سے ہمارا خطہ ترقی کررہا ہے لیکن ہم اپنے خطے میں بھی پیچھے رہ گئے ہیں، پڑوسی ممالک نے ثابت کیا کہ آبادی بوجھ نہیں اثاثہ ہوسکتی ہیں اور ان ممالک نے اس قدر آبادی کے ساتھ بھی ٹیکنالوجی میں ترقی کرلی۔

تقریب میں ایچ ای سی کے ریجنل ڈائریکٹر سلمان احمد بھی موجود تھے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر این ای ڈی ڈاکٹرمحمد طفیل کا کہنا تھا کہ موجودہ زمانے میں کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ ایک بنیادی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکیڈمک ایکسیلنس کا ہدف اس کے بغیر ناممکن ہے وزیر اعظم کا یہ اقدام انتہائی اہمیت کا حامل ہے جسے بے حد سراہا جارہا ہے، ہم اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے سندھ سے لیپ ٹاپ کی تقسیم کا آغاز کرنے کے لیے این ای ڈی کا انتخاب کیا۔

ڈاکٹر فہد شفیق کوآرڈینیٹر وزیر اعظم پروگرام سندھ نے اس موقع پر کہا کہ حکومت نے وزیر اعظم پروگرام کے تحت جیسے پنجاب کے نوجوانوں کو مواقع دیے ہیں، اسی طرح کوشش کررہے ہیں کہ سندھ کے نوجوانوں کو بھی یہ مواقع دیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں 33 جامعات کے طلبہ کو 16 ہزار لیپ ٹاپ دیے جائیں گے  سندھ جناح میڈیکل یونیورسٹی کراچی، زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام ، سندھ یونیورسٹی جامشورو سمیت دیگر جامعات میں جاکر لیپ ٹاپ دیں گے جبکہ اگلے ماہ وزیر اعظم کراچی آئیں گے اور مزار قائد پر منعقد ایک تقریب میں طلبہ کو لیپ ٹاپ دیں گے۔

اس موقع پر مسلم لیگ کے سینیئر رہنما نہال ہاشمی نے کہا کہ بہت سارے منصوبے لائے گئے لیکن میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی یہ سوچ تھی کہ نوجوانوں کے لیے کچھ کرسکیں یوتھ کو بااختیار بنانے کیلیے سوچ دی گئی اور کہا کہ تعلیم اور ایکسیلنس کا یہ سلسلہ رکنا نہیں چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ این ای ڈی کے طلبہ نے پوری دنیا میں ہمیشہ پاکستان کا جھنڈا گاڑھا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ نے کہا کہ لیپ ٹاپ

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار