پاکستان کی ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوششیں زور پکڑ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال سفارتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار مذاکرات اور فعال سفارتی رابطے ہی خطے میں سلامتی اور ترقی کو یقینی بنانے کا مؤثر راستہ ہیں۔ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر قائم برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا اور اعلیٰ سطح رابطوں اور باہمی مشاورت کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اسی دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات کی، جس میں دونوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مکالمہ اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔
پاکستان امریکہ کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تصادم کی صورت میں پورے خطے پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی سفارتی کوششیں صرف تہران تک محدود نہیں بلکہ عالمی فورمز، بشمول ورلڈ اکنامک فورم، پر بھی اس مسئلے کو اجاگر کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فورم میں امریکی عہدیداروں سے بھی ایران سے متعلق مسئلے پر تبادلہ خیال کیا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہ بنائے، ورنہ سخت نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ امریکہ نے اس ممکنہ کارروائی کے لیے اپنا بحری بیڑا خلیج میں بھیج دیا ہے، جس پر پاکستان کو شدید تشویش ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان ہمیشہ پرامن اور سفارتی حل کے حامی رہا ہے۔ طاقت کے استعمال اور اقتصادی پابندیوں کی حمایت پاکستان کے موقف میں شامل نہیں ہے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کا خطہ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس سے علاقائی استحکام اور اقتصادی ترقی متاثر ہوگی۔ پاکستان اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور امن کے قیام کی امید رکھتا ہے۔
غزہ اور فلسطین کے مسئلے پر امریکی بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان نے نیک نیتی کے تحت شمولیت اختیار کی ہے، اور اس کا مقصد ابراہیمی معاہدے میں شمولیت نہیں بلکہ غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا، فلسطینی عوام کی مدد اور دیرپا امن قائم کرنا ہے۔ بورڈ آف پیس میں پاکستان کے علاوہ سات دیگر مسلم ممالک بھی شامل ہیں، جن میں سعودی عرب، مصر، اردن، یو اے ای، انڈونیشیا اور قطر شامل ہیں۔ پاکستان انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کا حصہ نہیں ہوگا اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا حامی ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تجارتی روابط مضبوط رکھتا ہے، جس کا حجم 12 ارب یورو سے زائد ہے اور اسے GSP پلس کی سہولت حاصل ہے۔ صدر زرداری نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور جاری منصوبوں کا جائزہ لینے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی مسافروں کے لیے محفوظ ملک ہے اور امریکی ویزا پابندیوں کے خاتمے پر بات چیت جاری ہے، امید ہے کہ پاکستان کو جلد ویزا پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔
مزید برآں، وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس میں شرکت کے دوران عالمی سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور قازقستان کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔ افغان دہشتگردوں کے ڈی آئی خان حملے کے معاملے کو بھی دوطرفہ اور دیگر پلیٹ فارمز پر اٹھایا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہ پاکستان کے درمیان کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔