اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے ایم ڈبلیو ایم جنوبی پنجاب کے وفد کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ یہ نئی آئینی ذمہ داری عمران خان اور قوم کی امانت ہے، ہم پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے میدان میں موجود ہیں، ہم پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانا چاہتے ہیں، اندرونی و بیرونی عناصر کے پیدا کردہ مسائل کی وجہ سے ملک اسوقت نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین و اپوزیشن لیڈر سینیٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے ایم ڈبلیو ایم جنوبی پنجاب کے صوبائی آرگنائزر علامہ قاضی نادر حسین علوی نے وفد کے ہمراہ اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں وفد نے سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کو اپوزیشن لیڈر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ وفد میں صوبائی رہنماء و ممبر ڈویژنل امن کمیٹی انجینئر سخاوت علی سیال، صفدر حسین خان، ثقلین نقوی، سید ندیم کاظمی، مولانا علی رضا حسینی، ساجد حسین گشکوری، آصف ہاشمی اور دیگر موجود تھے۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ یہ نئی آئینی ذمہ داری عمران خان اور قوم کی امانت ہے، ہم پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے میدان میں موجود ہیں، ہم پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانا چاہتے ہیں، اندرونی و بیرونی عناصر کے پیدا کردہ مسائل کی وجہ سے ملک اس وقت نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے، ملک میں سیاسی عدم استحکام ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، عدلیہ اپنے فیصلوں میں آزاد نہیں ہے، جسے ملک کا حکمران ہونا چاہیئے تھا، وہ پابند سلاسل ہے اور نااہل لوگ تخت نشین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کی چھتری میں بننے والے فلسطین مخالف بورڈ میں شمولیت شرمناک ہے، پاکستانی عوام اسے تسلیم نہیں کرے گی۔ اس موقع پر فوکل پرسن اپوزیشن لیڈر جناب محسن شہریار، ڈپٹی فوکل پرسن انجینئر ظہیر نقوی بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اپوزیشن لیڈر ہم پاکستان
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔