شیخ وقاص اکرم کی آڈیو لیک کو غلط انداز دیا گیا، ایسا کچھ نہیں: بیرسٹر گوہر علی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
طیب سیف : چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بتایا کہ آج ہماری پولیٹیکل کمیٹی کی میٹنگ تھی، بہت اچھے طریقے سے معاملات زیر بحث آئے۔
پی ٹی آئی کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ پولیٹیکل کمیٹی کی میٹنگ میں علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی نے شرکت کی۔انہوں نے بتایا کہ شام چھ بجے سے میٹنگ رات تک جاری رہی، میٹنگ میں کچھ فیصلے بھی ہوئے ہیں، اس حوالے سے اچکزئی صاحب کا ویڈیو پیغام آ جائے گا۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
بیرسٹر گوہر علی نے بتایا کہ ہم نے ڈائیورٹ نہیں ہونا، اچکزئی صاحب کا بہترین میسج ہوگا، شیخ وقاص اکرم کی آڈیو لیک کو غلط انداز دیا گیا، انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ محمود اچکزئی کے میسج سے بانی کے ورکرز اور سپورٹرز کو بہت تسلی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر علی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔