پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 برس، لوگو ڈیزائن مقابلے کی تقسیم ایوارڈ تقریب
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
تصویر سوشل میڈیا۔
پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے پر لوگو ڈیزائن مقابلے کی تقریب تقسیم ایوارڈ اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔
وزارت خارجہ کے اعلامیہ کے مطابق لوگو ڈیزائن مقابلہ نومبر 2025 میں وزارتِ خارجہ کے زیراہتمام ہوا تھا، مقابلےمیں ملک بھر کے مختلف شہروں سے بڑی تعداد میں ڈیزائنز موصول ہوئے۔
اعلامیہ کے مطابق شارٹ لسٹنگ کے بعد تین بہترین ڈیزائنرز کو فائنل کیا گیا۔
وزارت خارجہ کے اعلامیہ کے مطابق سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور چینی سفیر جیانگ ژی ڈونگ نے کامیاب ڈیزائنرز کو اسناد اور نقد انعامات دیے۔
اس موقع پر سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے کہا نوجوانوں کی بھرپور شرکت ملک کے تخلیقی ٹیلنٹ کی عکاس ہے، نوجوان دوستی اور خیرسگالی کے سفیر کے طور پر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
چینی سفیر جیانگ ژی ڈونگ نے پاکستان چین دیرینہ دوستی اور تعاون کو اجاگر کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔