data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ڈیل کا خواہاں ہے، صرف وہی جانتا ہے اس کو کیا ڈیڈ لائن ملی ہے۔

غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میں نے ایران میں 837 افراد کی پھانسی رکوائی، تہران کو پیغام دیا تھا کہ لوگوں کو پھانسی دی تو سخت ردعمل آئے گا، وہ ایسا ردعمل ہوگا جو پہلے کسی نے نہیں دیکھا ہوگا۔

اس دوران صحافی نے سوال کیا کہ ایران ڈیل پر نہیں آیا تو کیا وینزویلا کی طرح فوجی کارروائی ہوگی؟ اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا کیونکہ میں نہیں بتانا چاہتا کہ عسکری سطح پر کیا حکمت عملی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج جنگوں کیلیے دنیا کی مضبوط فوج ہے، آج کے بحری بیڑے 1940 کے بیڑوں سے 100 گنا زیادہ طاقتور ہیں، ہم اپنے طاقتور بحری بیڑوں کا استعمال خوب جانتے ہیں۔

انہوں نے دھمکی دی کہ ایران کی طرف رواں بحری بیڑے وینزویلا بھیجے گئے بیڑوں سے کئی زیادہ بڑے ہیں، ہم دیکھیں گے کہ بیڑوں کو کس جگہ تعینات کرنا ہے، ایران کے قریب بھی تعینات کر سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے لیکن میں اتنا کہہ سکتا ہوں ایران معاہدہ چاہتا ہے اور ڈیڈ لائن کے بارے میں بھی صرف وہی جانتا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ میں نے 8 جنگیں رکوائیں جبکہ یوکرین روس میں جنگ بندی کیلیے بھی کوشش کر رہا ہوں، زیلنکسی اور پیوٹن ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں ان کی نفرت کی وجہ سے مسئلہ ہو رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ روس یوکرین سیٹلمنٹ کے قریب جا رہے ہیں، اس جنگ میں ایک ماہ کے دوران 29 ہزار فوجی ہلاک ہوئے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ نے نے کہا کہ کہ میں

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار