معاشی دارالحکومت کراچی لاوارث اور حکمران تماشائی بنے ہوئے ہیں، ایم کیو ایم پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اپنے بیان میں اراکینِ مرکزی کمیٹی نے کہا کہ اگر فوری طور پر کراچی کے بنیادی مسائل حل نہ کیئے گئے بااختیار بلدیاتی نظام نافذ نہ ہوا اور شہر کو اس کا جائز حق نہ دیا گیا تو عوامی ردعمل ناگزیر ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکینِ مرکزی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا اور معاشی حب کراچی شدید شہری بلدیاتی اور انتظامی بحران کی لپیٹ میں آچکا ہے، جہاں کروڑوں شہری بنیادی سہولیات سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ٹوٹی سڑکیں ابلتے گٹر پینے کے پانی کی قلت کچرے کے انبار طویل لوڈشیڈنگ اور ناکارہ ٹرانسپورٹ سسٹم روزمرہ زندگی کو اذیت ناک بنا چکا ہے، جبکہ سندھ حکومت مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ اپنے ایک بیان میں اراکینِ مرکزی کمیٹی ایم کیو ایم نے کراچی کی ابتر صورتحال پر سندھ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ بحران محض بدانتظامی نہیں بلکہ دانستہ نظرانداز اور جانبدارانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے، اراکینِ مرکزی کمیٹی کے مطابق کراچی ملک کی معیشت میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے کے باوجود اپنے آئینی مالی اور انتظامی حقوق سے محروم ہے۔
اراکینِ مرکزی کمیٹی نے کہا کہ واٹر اینڈ سیوریج کا نظام زمین بوس ہو چکا ہے، شہری مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں، کے الیکٹرک کی بے لگام لوڈشیڈنگ نے گھریلو زندگی اور کاروبار دونوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو دانستہ طور پر بااختیار نہ بنا کر شہر کو یرغمال بنایا گیا ہے، اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کرپشن کی نذر ہو رہے ہیں، مگر عوام کیلئے کوئی ریلیف موجود نہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر فوری طور پر کراچی کے بنیادی مسائل حل نہ کیئے گئے بااختیار بلدیاتی نظام نافذ نہ ہوا اور شہر کو اس کا جائز حق نہ دیا گیا تو عوامی ردعمل ناگزیر ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مرکزی کمیٹی سندھ حکومت کہا کہ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔