سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات غیر جانبدارہونی چاہیے، حیدر عباس رضوی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما نے کہا کہ گل پلازہ کے متاثرین کے حقوق کی بحالی اور انصاف کے حصول کیلئے ہمارا مؤقف واضح اور عملی اقدامات پر مبنی ہے اور سیاسی محاذ آرائی سے تعلق نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما سید حیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات غیرجانبدار ہونی چاہیے، پاکستان کمیشن انکوئری کے تحت وفاق کی سطح پر تحقیقات کرائی جائے۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حیدر عباس رضوی نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن یا جوڈیشل انکوائری تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ وفاقی سطح پر شفاف اور غیر جانبدار انکوائری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ سندھ نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھا ہے، جس میں سنگل جج کی انکوائری کی تجویز شامل ہے، تاہم ایم کیوایم کا مؤقف ہے کہ اس معاملے میں ہر پہلو پر نظر رکھنا ضروری ہے، تاکہ سیاسی عنصر تحقیقات میں دخل نہ دے۔ حیدر عباس رضوی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قانونی ماہرین مشاورت کے بعد ہر معاملے کا جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کے متاثرین کے حقوق کی بحالی اور انصاف کے حصول کیلئے ایم کیو ایم کا مؤقف واضح اور عملی اقدامات پر مبنی ہے اور سیاسی محاذ آرائی سے تعلق نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حیدر عباس رضوی ایم کیو ایم نے کہا کہ گل پلازہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔