بھاٹی گیٹ واقعہ: ماں اور بچی کی ہلاکت پر ایس ایچ او معطل، ڈی ایس پی کے خلاف کارروائی کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
عابد چوہدری: لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں ماں اور بچی کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے کے بعد پولیس کے کردار پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں، جس پر ڈی آئی جی آپریشنز نے فوری ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد متوفیہ کے خاوند کو حراست میں لینے اور مبینہ تشدد کی اطلاعات سامنے آنے پر ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ متعلقہ ڈی ایس پی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ ایس پی سٹی کی جانب سے واقعے پر پولیس کے مجموعی رسپانس کا تعین کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں گی۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
ڈی آئی جی آپریشنز نے انٹرنل افیئرز برانچ (آئی اے بی) کو آزادانہ انکوائری کے لیے باضابطہ خط بھی لکھ دیا ہے۔ انکوائری میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ خاوند اور دیور کو کس بنیاد پر حراست میں لیا گیا، پولیس نے ریسکیو کال پر گرفتاری کیوں کی اور ریسکیو آپریشن کے دوران پولیس ایکشن کی وجوہات کیا تھیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق آئی اے بی کو جلد از جلد تحقیقات مکمل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ تحقیقات کی روشنی میں افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ رویے میں ملوث تمام افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ہزارہ ایکسپریس کی 2بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔