گھریلو تشدد ترمیمی ایکٹ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
صدر مملکت نے (ڈومیسٹک وائلنس) گھریلو تشدد ترمیمی ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی ہے جس کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر ہی ہوگا۔ واضح رہے کہ تین روز قبل ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بیوی کو گھورنا، گالی دینا، خرچہ روکنا، دوسری شادی یا طلاق کی دھمکیوں کو جرم قرار دیتے ہوئے 3 سال قید کا قانون منظور کیا تھا جس کے تحت بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا قابل سزا جرم ہوگا اور قانون کے مطابق مردوں کو بھی تحفظ ملے گا۔
مولانا فضل الرحمن اس بات پر سخت برہم تھے جو حکومت نے گزشتہ سال قانون کے ذریعے 18 سال کی عمر تک کے نوجوانوں پر شادی کرنے کی پابندی عائد کی تھی جس پر مولانا فضل الرحمن نے احتجاج اور اس پابندی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس پابندی کو شریعت کے خلاف قرار دیا تھا۔ دیگر علما نے بھی یہ قانون غلط قرار دیا تھا۔
موجودہ گھریلو تشدد ترمیمی بل کی منظوری کے موقع پر مولانا فضل الرحمن نے دس سال کے جوانوں کی شادیاں کرانے کا اعلان کیا تھا جو مذکورہ قانون کو نہ ماننے اور اس کی خلاف ورزی کرنے کا کھلا اعلان تھا۔جے یو آئی کے رہنما حافظ حمداللہ کا کہنا ہے کہ اگر مجھے غصہ آ گیا تو میں 16 سال کی لڑکی سے شادی کروں گا۔ انھوں نے مولانا فضل الرحمن کو مشورہ دیا کہ وہ قرآن و سنت کے منافی اس حکومتی قانون کے خلاف چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کریں اور ان نوجوانوں کی شادیاں کرائیں جو بالغ ہو چکے ہیں اور ان کی عمریں 18 سال سے کم ہوں۔
حافظ حمداللہ نے حالیہ منظور شدہ ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ کی بھی مخالفت کی۔مولانا فضل الرحمن اور حافظ حمداللہ وفاقی دارالحکومت میں نہیں رہتے اور اس ایکٹ کا کوئی ذاتی نقصان بھی نہیں ہے مگر دونوں 18 سال عمر کی پابندی کے سخت خلاف ہیں اور دونوں نے مذکورہ منظور شدہ قانون کی خلاف ورزی کا اعلان کیا ہے جو ان کے نزدیک شریعت کے خلاف ہے جسے مذہبی حلقے تسلیم نہیں کر رہے۔ حکومت کے نزدیک 18 سال کی عمر کے بچے ہی بالغ ہوتے ہیں اور کم عمری کی شادی دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ ملک بھر میں خصوصاً دیہی اور پس ماندہ علاقوں میں کم عمر میں شادی معمول کی بات رہی ہے اور ظاہر ہے کہ 18 سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین یہ جان کر کہ ان کے بچے کم عمری میں بالغ ہو چکے ہیں، ان کی شادیاں کرا دیتے ہیں مگر حکومت یہ نہیں مانتی اور قانون کے مطابق شادیاں اٹھارہ سال کی عمر مکمل ہونے پر ہی ہونی چاہیے جو قانونی ہوگی۔
حکومت اور کم عمری کی شادی کا قانون بنانے والوں کو پتا نہیں ہے کہ ملک میں بھینسوں کے باڑوں میں بھینسوں کا دودھ بڑھانے کے لیے بھینس مالکان بھینسوں کو وہ ممنوعہ انجکشن ضرور لگواتے ہیں جو کم عمری میں بچوں کی بلوغت کا باعث بن رہا ہے۔ ممکن ہے اس قانون بنانے والوں کو انجکشن کے ذریعے زیادہ دودھ کا کوئی نقصان نہ ہوا ہو اور وہ یہ مضر صحت دودھ استعمال ہی نہ کرتے ہوں۔ کراچی کے ایک بھینس باڑے کے مالک نے چند سال قبل راقم سے یہ اعتراف کیا تھا کہ یہ درست ہے کہ انجکشن کے ذریعے بڑھائے گئے دودھ سے خاص طور پر بچیاں وقت سے قبل بالغ ہو رہی ہیں اور ایسا دودھ نقصان دہ بھی ہوتا ہے جس سے صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
صوبائی حکومتوں کو بھی اس نقصان دہ دودھ کا پتا ہے اسی لیے بھینسوں کے باڑوں میں دودھ بڑھانے کے انجکشن پر یہ پابندی بھی لگی تھی مگر ایسے قانون کو کون مانتا ہے جس پر عمل کرانے میں خود حکومت ہی سنجیدہ نہیں ہے۔ملک میں ایسے پریمی جوڑوں کی خبریں روزانہ ہی اخبارات میں شائع ہو رہی ہیں جو کم عمری میں اپنے ماں باپ کی مرضی کے خلاف گھروں سے بھاگ کر عدالتوں میں جا کر کورٹ میرج کر لیتے ہیں جس پر لڑکیوں کے والدین مذکورہ لڑکے کے خلاف مقدمہ درج کراتے ہیں کہ ان کی بیٹی بالغ نہیں اور اس کی عمر 18 سال سے کم ہے جسے ورغلا کر یا اغوا کرکے شادی کی گئی ہے جو غیر قانونی ہے۔
مذکورہ پسند کی شادی کرنے والے یا ان کے والدین کا موقف ہوتا ہے کہ ان کی عمریں 18 سال ہیں جس کے ثبوت کے لیے ڈاکٹروں کو رشوت دے کر 18 سال کی عمر کے میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی پیش کیے جاتے ہیں جس کے بعد عدالت ہی کوئی حکم جاری کرتی ہے۔حالیہ ڈومیسٹک وائلنس قانون کے سلسلے میں پی پی کی خاتون سینیٹر سے پوچھا گیا کہ کیا اب مردوں کو کالے چشمے لگانا پڑیں گے کہ ان کا گھورنا خواتین کو نظر نہ آئے تو جواب مذاق میں دیتے ہوئے کہا گیا کہ گھورنے کے الزام سے محفوظ رہنے کے لیے مرد وہ کریں جو کام کے وقت بیلوں کی آنکھیں چھپانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
حکومت نے کبھی گھریلو تشدد کے معاملات جاننے کی وجوہات پر توجہ ہی نہیں دی۔ گھریلو تشدد اور شوہر کی بیوی کو مختلف دھمکیاں معمول اور بیویاں مجبور ہیں۔ وہ اپنے گھریلو معاملات اور شوہر سے متعلق شکایات اکثر گھر سے باہر نہیں آنے دیتیں تو کیا وہ اپنا گھر توڑنے کے لیے حالیہ قانون کی مدد لیں گی یہ اکثر ممکن نہیں ہوگا۔ کیا حکومت اسی قانون کے نتیجے میں علیحدہ ہو جانے والی خواتین اور ان کے بچوں کی کفالت کی ذمے داری لے گی اس کا نئے قانون میں کوئی ذکر نہیں۔ اس قانون کی مدد مجبوری ہی میں لی جائے گی تاکہ علیحدگی ہو۔
ہر بیوی اپنا گھر بچانے کی شوہر سے زیادہ کوشش کرتی ہے۔ حکومت نے جو قانون بنایا ہے وہ حقائق کے برعکس صرف مذاق ہی بنے گا کیونکہ یہ قانون گھریلو تشدد روکنے میں ناکافی ہے جس میں نہ بیویوں کو اپنا تحفظ نظر آئے گا کیونکہ وہ شوہر کے آگے مجبور ہیں۔ قانون سے شوہر کو 3 سال سزا ہوئی تو بیوی کس طرح گھر سنبھالے گی؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمن گھریلو تشدد سال کی عمر قانون کے کے خلاف بالغ ہو ہیں اور کی شادی کے لیے اور اس
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم