اسلام آباد ہائیکورٹ بار انتخابات: عدالتی فیصلے کو ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ بار انتخابات کے تناظر میں وکلا کے اندر جاری سیاسی مہم نے عدالتی نظام کی حرمت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ صدر ڈسٹرکٹ بار اسلام آباد، چوہدری نعیم گجر، کے حالیہ بیانات اور ٹویٹس کو ماہرین قانون عدالت کے فیصلے کی سنگین خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق انتخابات میں حمایت حاصل کرنے کے لیے کسی مقدمے یا فیصلے کو استعمال کرنا نہ صرف پیشہ ورانہ لحاظ سے غلط ہے بلکہ یہ عدالتی وقار کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ عدالت ایک مقدس مقام ہے، جہاں قانون کی حرمت مقدم ہے، نہ کہ سیاسی منافع کے لیے جذباتی کھیل۔
چودھری نعیم گجر پر الزام ہے کہ وہ 31 جنوری کو ہونے والے اجلاس کو قانونی سیمینار کے بجائے سیاسی اسٹیج کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، اور اس کے ذریعے 14 فروری کو ہونے والے IHCBA انتخابات کے لیے ووٹرز حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ IHCBA کی صدارت ایک اعزازی اور باوقار منصب ہے جس کے لیے فکری ایمانداری اور عدالتی وقار کی پاسداری لازمی ہے۔ فیصلے کو انتخابی مہم میں تبدیل کرنا نہ صرف بار کے وقار کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ قانون کی روح کو بھی کمزور کرتا ہے۔
وکلاء کی سیاسی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ قانون پر عمل اور عدالتی فیصلوں کا احترام ہر وکیل کی اولین ذمہ داری ہے، اور کوئی بھی فیصلہ یا مقدمہ سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
قانونی ماہرین نے بار کے اندر وکلا سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں شفافیت اور قانونی اصولوں کو مقدم رکھیں، تاکہ عدالتی نظام کی ساکھ قائم رہے اور قانون کی حرمت ہر حال میں محفوظ رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔