نئی دہلی میں "منریگا" اسکیم میں تبدیلی کے خلاف کانگریس کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
مظاہرین کا کہنا تھا کہ منریگا دیہی ہندوستان کیلئے محض ایک اسکیم نہیں بلکہ روزگار کی آئینی ضمانت تھی، جسے دانستہ طور پر کمزور کیا جا رہا ہے اور اس کا براہِ راست اثر غریب اور مزدور طبقے پر پڑرہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ قومی دیہی روزگار گارنٹی منصوبہ "منریگا" میں تبدیلیوں کے خلاف کانگریس نے جمعہ کو راجدھانی دہلی میں زوردار احتجاج کیا۔ "منریگا بچاؤ سنگرام" کے تحت کانگریس کے سینیئر رہنماؤں اور کارکنوں نے مارچ نکالا اور اس منصوبے میں کی جا رہی تبدیلیوں کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں تختیاں اٹھا رکھی تھیں جن پر حکومت کے خلاف نعرے درج تھے اور مطالبہ کیا گیا کہ "منریگا" کے ڈھانچے اور اس کے بنیادی مقصد کو کمزور نہ کیا جائے۔ احتجاج میں کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش، میڈیا و پبلسٹی شعبے کے چیئرمین پون کھیڑا، اجے ماکن سمیت کئی رہنما شریک ہوئے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ منریگا دیہی ہندوستان کے لئے محض ایک اسکیم نہیں بلکہ روزگار کی آئینی ضمانت تھی، جسے دانستہ طور پر کمزور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی پالیسیوں کے سبب اس قانون کی روح متاثر ہوئی ہے اور اس کا براہِ راست اثر غریب اور مزدور طبقے پر پڑ رہا ہے۔
اس موقع پر جے رام رمیش نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت نے عملی طور پر منریگا قانون کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی اور انقلابی قانون تھا جو ستمبر 2005ء میں اتفاقِ رائے سے منظور ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کی تیاری میں سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کا اہم کردار رہا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ منریگا کے ذریعے پہلی بار دیہی خاندانوں کو روزگار کی قانونی ضمانت ملی، پنچایتیں مضبوط ہوئیں اور براہِ راست فائدہ منتقلی کے ذریعے مزدوری کی رقم لوگوں تک پہنچی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس قانون کو اس لیے کمزور کر رہی ہے کیونکہ یہ مہاتما گاندھی کے نام سے جڑا ہوا ہے اور اقتدار کو یہ منظور نہیں کہ عوام کو ان کا حق ملتا رہے۔
پون کھیڑا نے بھی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس منریگا کے خلاف اٹھائے گئے ہر قدم کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو حکومت کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کے وقار کو مجروح کرے، وہ زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکتی۔ ان کے مطابق عوام اس پالیسی کی قیمت حکومت سے وصول کریں گے۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ حکومت منریگا کو ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے اور اس منصوبے سے مہاتما گاندھی کا نام ہٹانا دراصل ان کی توہین کے مترادف ہے۔
پارٹی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ منریگا نے دیہی علاقوں میں روزگار کی ضمانت دے کر غریبوں کو معاشی طور پر مضبوط بنایا، مگر اب اس بنیاد کو ہی ہلایا جا رہا ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ نریندر مودی غریبوں کو روزگار کا قانونی حق دینے والی اس تاریخی اسکیم کو مٹانا چاہتے ہیں اور کانگریس ایسا کبھی نہیں ہونے دے گی۔ پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ منریگا کے تحفظ کے لئے سڑک سے لے کر پارلیمان تک اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ منریگا روزگار کی نے کہا کہ کے خلاف کا کہنا ہے اور اور اس رہا ہے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔