Express News:
2026-07-24@01:06:12 GMT

افغانستان دہشت گردوں کا گڑھ بن گیا؟ عالمی جریدے کی تشویشناک رپورٹ

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

اسلام آباد: افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں خطے کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔

عالمی جریدے یوریشیا ریویو نے اپنی رپورٹ میں افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔

یوریشیا ریویو کے مطابق افغان طالبان حکومت اب صرف افغانستان کا داخلی مسئلہ نہیں رہی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ بن چکی ہے۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگر افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے باعث پاکستان عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

افغانستان؛ طالبان نے 36 افراد کو سرعام کوڑے مارے؛ قید کی سزائیں بھی دیں

طالبان حکومت میں افغانستان کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی، سابق وزیر خزانہ کا بڑا انکشاف

طالبان دور میں غذائی بحران بے قابو، لاکھوں افراد فاقہ کشی پر مجبور

یوریشیا ریویو کا کہنا ہے کہ پاکستان صرف اپنے شہریوں ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی دہشت گردی کے خطرات سے محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ عالمی برادری افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی مبینہ سرپرستی عالمی سطح پر سامنے آ چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان متعدد بار بین الاقوامی برادری کو اس حوالے سے شواہد فراہم کر چکا ہے، تاہم افغان حکام کا مؤقف تاحال تبدیل نہیں ہوا۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ عالمی برادری اب اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغانستان میں طالبان حکومت کہ پاکستان کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق