افغانستان دہشت گردوں کا گڑھ بن گیا؟ عالمی جریدے کی تشویشناک رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسلام آباد: افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں خطے کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔
عالمی جریدے یوریشیا ریویو نے اپنی رپورٹ میں افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔
یوریشیا ریویو کے مطابق افغان طالبان حکومت اب صرف افغانستان کا داخلی مسئلہ نہیں رہی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ بن چکی ہے۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے باعث پاکستان عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیںافغانستان؛ طالبان نے 36 افراد کو سرعام کوڑے مارے؛ قید کی سزائیں بھی دیں
طالبان حکومت میں افغانستان کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی، سابق وزیر خزانہ کا بڑا انکشاف
طالبان دور میں غذائی بحران بے قابو، لاکھوں افراد فاقہ کشی پر مجبور
یوریشیا ریویو کا کہنا ہے کہ پاکستان صرف اپنے شہریوں ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی دہشت گردی کے خطرات سے محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ عالمی برادری افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی مبینہ سرپرستی عالمی سطح پر سامنے آ چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان متعدد بار بین الاقوامی برادری کو اس حوالے سے شواہد فراہم کر چکا ہے، تاہم افغان حکام کا مؤقف تاحال تبدیل نہیں ہوا۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ عالمی برادری اب اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغانستان میں طالبان حکومت کہ پاکستان کے لیے
پڑھیں:
وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔(جاری ہے)
وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔