افغان سرزمین دہشتگردوں کے ٹھکانے میں تبدیل، خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسلام آباد( طارق محمود سمیر)افغانستان ایک بار پھر دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے، جہاں افغان طالبان رجیم کی مبینہ سرپرستی میں سرگرم دہشتگرد عناصر نے پورے خطے کو عدم استحکام کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ افغانستان سے سرحد پار دہشتگردی نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک کیلئے بھی ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔
عالمی جریدے یوریشیا ریویو نے بھی افغانستان سے پھیلنے والی دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔ جریدے کے مطابق افغان طالبان رجیم اب محض ایک داخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر ایک سنجیدہ سیکیورٹی خطرے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
یوریشیا ریویو نے اقوام متحدہ کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ افغانستان میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت 20 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر افغانستان سے پنپنے والی دہشتگردی سے پاکستان متاثر ہوتا ہے تو خطے کے دیگر ممالک بھی خود کو محفوظ نہیں رکھ سکیں گے۔
جریدے کے مطابق پاکستان صرف اپنے شہریوں کا دفاع نہیں کر رہا بلکہ پورے خطے کو دہشتگردی کے خطرے سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ عالمی برادری افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشتگردی کی سرپرستی روکنے کیلئے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشتگرد تنظیموں کی حمایت اب دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے۔ پاکستان متعدد بار عالمی برادری کو افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے ٹھوس اور مستند شواہد فراہم کر چکا ہے، لیکن افغان حکام کی ہٹ دھرمی اور انتہاپسندانہ رویہ تاحال برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی برادری اب اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ پاکستان سرحد پار دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشتگردوں کی سرپرستی خطے میں عدم استحکام کا باعث بن چکی ہے اور علاقائی و عالمی امن کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: افغان طالبان رجیم افغانستان سے دہشتگردی کے چکی ہے
پڑھیں:
پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
سٹی 42 : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی ملاقات ہوئی ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے بلوچستان میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ہدفی کارروائیاں مکمل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان اور عوام کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد نیٹ ورک کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا، بیرونی سرپرستی میں چلنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دشمن کے مذموم عزائم کو مسلح افواج اور پاکستانی عوام کے اتحاد و استقامت سے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت اور ثابت قدم عوام صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبے بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوامی اور جامع حکمت عملی کے تحت جاری ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی یکجہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔