غزہ امن بورڈ کے نام پر ظلم کی قانونی شکل
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260130-03-4
غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید اختلافات نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو ایک بار پھر سیاسی میدان جنگ بنا دیا جہاں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اپوزیشن کے تمام اعتراضات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس بورڈ میں شامل ہونے سے پاکستان کو فلسطینی حقوق کے دفاع کا اہم پلیٹ فارم ملا ہے اور اسرائیل پر ہمارا تاریخی موقف بالکل واضح اور برقرار ہے اگر ہم حصہ نہ بنتے تو اپوزیشن خود یہ الزام لگاتی کہ ملک تنہا رہ گیا ہے اور عالمی سطح پر فلسطین کے معاملے پر خاموش ہو گیا ہے۔ مگر یہ فیصلہ قومی مفاد اور مسلم امہ کی اجتماعی ترجیحات کے مطابق کیا گیا ہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے علامہ راجا ناصر عباس جیسے رہنماؤں نے شدید تنقید کی کہ جو کام نیتن یاہو براہ راست نہ کر سکا اب غزہ امن بورڈ کے نام پر وہی مقاصد آہستہ آہستہ پورے کیے جا رہے ہیں اور مولانا فضل الرحمن نے براہِ راست وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ غلامی مبارک ہو ہمیں ایسی غلامی قبول نہیں ہے جس میں ظالم کے ساتھ بیٹھ کر امن کے نعرے لگائے جائیں جبکہ ایوان میں اپوزیشن اراکین نے شدید احتجاج کیا اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو کر نعرے لگائے ایوان پر حملہ نامنظور عدلیہ پر حملہ نامنظور غزہ پیس بورڈ نامنظور اور بینرز لہرائے جس پر اسپیکر ایاز صادق نے تنبیہ کی کہ یہ مشترکہ اجلاس ہے نعرے بازی اور بینرز بعد میں لہرانے کے لیے ہیں مگر یہ احتجاج پاکستان کی عوامی رائے کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام فلسطین کے ساتھ مکمل یکجہتی میں ہیں اور حکمرانوں کا یہ موقف عوام سے بالکل الگ ہے۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ پہلے زمین میں فساد پھیلاتے ہیں پھر امن کی بات کرتے ہیں جو آج غزہ میں ہو رہا ہے اسرائیل نے عرصہ دراز سے دہشت گردی کی ہے جنگ مسلط کی ہے جبری قبضہ کیا ہے فلسطینیوں پر ظلم ڈھائے ہیں معصوم بچوں عورتوں اور بوڑھوں کی شہادتیں ہوئیں اور اس کی ذمے داری ظالم طاقتوں پر عائد ہوتی ہے مگر اب یہ امن بورڈ بنایا جا رہا ہے جس میں شامل ہونے والوں کی اتنی حیثیت بھی نہیں کہ وہ فلسطینیوں تک خوراک اور دوائی اپنی مرضی سے پہنچا سکیں۔ فلسطین کے لوگ خود اس بورڈ کا حصہ نہیں ہیں ان کی مرضی شامل نہیں ہے تو پھر یہ بورڈ کس کے لیے ہے؟ ظلم پر خاموش تماشائی بن کر اب امن کے گیت گانے والوں کو شرم نہیں آتی، دنیا میں امن تباہ کرنے والوں کو نوبل انعام دینے کی باتیں ہوتی ہیں مگر ہمارے لیڈروں کو اس کی فکر ہے کہ کہیں نوبل کے لیے مواقع ضائع نہ ہو جائیں یہ سب کچھ اب گرین لینڈ یا کسی اور جگہ کے لیے نہیں بلکہ غزہ کے بعد کے منظر نامے کو قبول کرانے کے لیے ہے جہاں نسل کشی کے بعد امن کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔ پاکستانی عوام اہل فلسطین کے ساتھ ہیں ان کی آزادی اور حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے مگر حکمرانوں کے فیصلوں سے ان کی رائے الگ ہے۔ بورڈ میں شمولیت سے پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ یہ امریکا کی قیادت میں ہے اور ٹرمپ کے منصوبے کا حصہ ہے جسے بہت سے مسلم ممالک نے قبول کیا مگر پاکستان جیسا ملک جو ہمیشہ فلسطین کا حامی رہا اسے اس میں شامل ہونے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ یہ شمولیت فلسطینیوں کی جدوجہد کو کمزور تو نہیں کر رہی اور ظالم کو براہ راست یا بالواسطہ فائدہ تو نہیں پہنچا رہی ہے؟
اپوزیشن کا احتجاج اسی لیے شدید ہے کہ وہ سمجھتے ہیں یہ فیصلہ قومی مفاد کے خلاف ہے اور عوام کی آواز کو دبا رہا ہے جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ سفارتی کامیابی ہے اور پاکستان کی آواز غزہ کے معاملے پر مزید مضبوط ہو گی مگر حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ حل ہونے تک امن بورڈ جیسے اقدامات محض وقتی اور سطحی لگتے ہیں جب تک اسرائیل پر دباؤ نہیں ڈالا جاتا قبضہ ختم نہیں کیا جاتا فلسطینیوں کو خودمختاری نہیں دی جاتی تب تک یہ سب کچھ دھوکا اور ظلم کی توسیع ہی ہے عوام کی یکجہتی فلسطین کے ساتھ ہے اور رہے گی چاہے حکمران کتنے ہی فیصلے کریں پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے دیگر بلوں جیسے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل دانش اسکولز اتھارٹی بل اور گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل میں بھی حکومتی ترامیم منظور ہوئیں اپوزیشن کی مسترد ہوئیں جن میں گھریلو تشدد کے بل میں بیوی کو گھورنا طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی کو جرم قرار دیا گیا ہے، مگر غزہ جیسے حساس ایشو پر اختلافات نے اجلاس کو مزید گرم کر دیا۔ سانحہ کراچی پر یکجہتی کی قرارداد بھی منظور ہوئی مگر اصل توجہ غزہ امن بورڈ پر رہی جو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر رہا ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ پاکستان فلسطین کا سچا حامی رہے نہ کہ کسی ایسے بورڈ کا حصہ بنے جو ظالم کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے یہ فیصلہ تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا ہے اور وقت بتائے گا کہ یہ درست تھا یا غلط مگر عوامی شعور جاگ رہا ہے اور فلسطین کی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی ان شاء اللہ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کی فلسطین کے کے ساتھ ہے اور رہا ہے گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔