ٹاپ 15 سرکاری اداروں کا منافع 5 فیصد کم ہو کر 622 ارب رہ گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
پاکستان کے ٹاپ 15 سرکاری اداروں (ایس او ایز) کا مجموعی منافع گزشتہ مالی سال میں 5 فیصد کمی کے بعد محض 622 ارب روپے رہ گیا، جبکہ صرف ایک سرکاری کمپنی ایسی تھی جس کا سالانہ منافع 100 ارب روپے سے تجاوز کر سکا، یہ انکشاف وزارتِ خزانہ کی ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ جس کی کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے منظوری دے چکی ہے میں تمام پبلک سیکٹر کمپنیوں کے گورننس ڈھانچے میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں بورڈز کی غیر مؤثر کارکردگی بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق بورڈز کی آڈٹ اور رسک کمیٹیوں کی نگرانی بھی کمزور رہی۔مالی سال 2024-25کے لیے اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (SOEs) رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ٹاپ 15 سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 622 ارب روپے منافع کمایا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 ارب روپے یا 5 فیصد کم ہے۔
رپورٹ کو کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے منظور کر چکی ہے اور اب وفاقی کابینہ سے توثیق کے مرحلے میں ہے، تاہم وزارتِ خزانہ نے تاحال اسے باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا۔
رپورٹ میں سرکاری اداروں کے بورڈز کی کارکردگی پر بھی تفصیلی تبصرہ کیا گیا ہے۔وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ جس نے رپورٹ تیار کی ہے کے مطابق بورڈز زیادہ تر نامکمل اور رسمی نوعیت کے ہیں، بورڈ کی کارکردگی کا کوئی باقاعدہ جائزہ نہیں لیا جاتا اور نگرانی کے معیار کو جانچنے کا کوئی نظام موجود نہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فیصلہ کیا تھا کہ سرکاری افسران جو مختلف بورڈز کے رکن ہیں، وہ ایک لاکھ نہیں بلکہ 10 لاکھ روپے سے زائد بورڈ فیس اپنے پاس نہیں رکھ سکیں گے اور اضافی رقم حکومت کو جمع کرانا ہوگی، تاہم بعد ازاں بیوروکریسی کے دباؤ پر یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ بورڈز میں 50 فیصد آزاد نمائندگی موجود ہے، لیکن آڈٹ اور رسک کمیٹیوں کی آزادی کمزور ہے اور انتظامیہ کو مؤثر چیلنج نہیں کیا جاتا۔
صرف 36 فیصد سرکاری اداروں کے آڈٹس مکمل ہو سکے جبکہ تاخیر کے باعث مالی فیصلے اندازوں کی بنیاد پر کیے جاتے رہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف ایک کمپنی نے 100 ارب روپے سے زائد منافع کمایا، جبکہ تین کمپنیوں کا منافع 50 ارب روپے سے زیادہ رہا۔
19 فیصد کمی کے باوجود آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) واحد ادارہ رہا جس نے 170 ارب روپے منافع کمایا۔
پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کا منافع 90 ارب روپے رہا،نیشنل بینک آف پاکستان 57 ارب روپے منافع کے ساتھ تیسرا بڑا منافع بخش ادارہ رہاچوتھا بڑا منافع کمانے والا ادارہ واپڈا رہا، جس نے 52 ارب روپے منافع کمایا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات 6.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارب روپے منافع سرکاری اداروں منافع کمایا کے مطابق روپے سے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔