Express News:
2026-07-24@02:06:12 GMT

ٹاپ 15 سرکاری اداروں کا منافع 5 فیصد کم ہو کر 622 ارب رہ گیا

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

اسلام آباد:

پاکستان کے ٹاپ 15 سرکاری اداروں (ایس او ایز) کا مجموعی منافع گزشتہ مالی سال میں 5 فیصد کمی کے بعد محض 622 ارب روپے رہ گیا، جبکہ صرف ایک سرکاری کمپنی ایسی تھی جس کا سالانہ منافع 100 ارب روپے سے تجاوز کر سکا، یہ انکشاف وزارتِ خزانہ کی ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ جس کی کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے منظوری دے چکی ہے میں تمام پبلک سیکٹر کمپنیوں کے گورننس ڈھانچے میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں بورڈز کی غیر مؤثر کارکردگی بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق بورڈز کی آڈٹ اور رسک کمیٹیوں کی نگرانی بھی کمزور رہی۔مالی سال 2024-25کے لیے اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (SOEs) رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ٹاپ 15 سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 622 ارب روپے منافع کمایا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 ارب روپے یا 5 فیصد کم ہے۔

رپورٹ کو کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے منظور کر چکی ہے اور اب وفاقی کابینہ سے توثیق کے مرحلے میں ہے، تاہم وزارتِ خزانہ نے تاحال اسے باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا۔

رپورٹ میں سرکاری اداروں کے بورڈز کی کارکردگی پر بھی تفصیلی تبصرہ کیا گیا ہے۔وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ جس نے رپورٹ تیار کی ہے  کے مطابق بورڈز زیادہ تر نامکمل اور رسمی نوعیت کے ہیں، بورڈ کی کارکردگی کا کوئی باقاعدہ جائزہ نہیں لیا جاتا اور نگرانی کے معیار کو جانچنے کا کوئی نظام موجود نہیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فیصلہ کیا تھا کہ سرکاری افسران جو مختلف بورڈز کے رکن ہیں، وہ ایک لاکھ نہیں بلکہ 10 لاکھ روپے سے زائد بورڈ فیس اپنے پاس نہیں رکھ سکیں گے اور اضافی رقم حکومت کو جمع کرانا ہوگی، تاہم بعد ازاں بیوروکریسی کے دباؤ پر یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ بورڈز میں 50 فیصد آزاد نمائندگی موجود ہے، لیکن آڈٹ اور رسک کمیٹیوں کی آزادی کمزور ہے اور انتظامیہ کو مؤثر چیلنج نہیں کیا جاتا۔

صرف 36 فیصد سرکاری اداروں کے آڈٹس مکمل ہو سکے جبکہ تاخیر کے باعث مالی فیصلے اندازوں کی بنیاد پر کیے جاتے رہے۔

رپورٹ کے مطابق صرف ایک کمپنی نے 100 ارب روپے سے زائد منافع کمایا، جبکہ تین کمپنیوں کا منافع  50 ارب روپے سے زیادہ رہا۔

19 فیصد کمی کے باوجود آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) واحد ادارہ رہا جس نے 170 ارب روپے منافع کمایا۔

پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کا منافع 90 ارب روپے رہا،نیشنل بینک آف پاکستان 57 ارب روپے منافع کے ساتھ تیسرا بڑا منافع بخش ادارہ رہاچوتھا بڑا منافع کمانے والا ادارہ واپڈا رہا، جس نے 52 ارب روپے منافع کمایا۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات 6.

5 کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ارب روپے منافع سرکاری اداروں منافع کمایا کے مطابق روپے سے

پڑھیں:

حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف

فائل فوٹو 

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔

سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف