Express News:
2026-07-24@03:40:51 GMT

پاک افغان سرحد کی بندش: خسارہ کس کا زیادہ؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

اسلام آباد میں ایک نیشنل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہُوئے وزیر اعظم ، جناب شہباز شریف، نے کہا ہے :’’پاکستان کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ افغانستان کے ساتھ ہر قسم کی ٹریڈ بند کر دے۔اِس بندش کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ اُنھوں(افغان مقتدر طالبان) نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والے دہشت گردانہ حملے بند نہیں کیے ۔ اب ہر قسم کی پاک افغان ٹریڈ بند ہے ۔ ایسا ہونا تو نہیں چاہیے تھا، لیکن اُنھوں ( افغان مُلّا حکام) نے ہمیں یہ قدم اُٹھانے پر مجبور کیا۔اِس مرتبہ انھیں( افغان طالبان حکام کو) یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ ہمارے ساتھ پُر امن طریقے سے رہنا چاہتے ہیں یا نہیں ۔افغانی ہمارے بھائی بہنیں ہیں ۔ اگر انھیں(طالبان) اِس بات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے (کہ پاکستان کے ساتھ امن سے رہیں) تو انھیںکم از کم اپنے عوام کی حالت پر رحم کرنا چاہیے ۔‘‘

پچھلے تقریباً ساڑھے تین ماہ سے پاک افغان سرحد بند ہے۔پاکستان سے کوئی تجارتی مال افغانستان جا رہا ہے نہ افغانستان سے کچھ پاکستان آ رہا ہے ۔ پاک افغان سرحد اس لیے بند ہے کہ افغان مقتدر طالبان اپنی زمین سے پاکستان پر دہشت گردوں کے حملوں کو (دانستہ) نہیں روک رہے۔ پاکستان کی بسیار برادرانہ کوششوں کے باوصف افغان طالبان امن کے ڈَھب پر نہیں آ رہے ۔پاکستان نے مخلص برادر اسلامی ممالک کے کہنے پر ، اِسی حوالے سے ، قطر اور ترکیے میں افغان طالبان کے نمائندگان سے مذاکرات بھی کرکے دیکھ لیے ہیں، مگر طالبان کا پرنالہ جہاں پہلے تھا، اب بھی وہیں ہے ۔ وہ پاکستان دشمنی میں سرِ مُو اپنی سوچ اور پالیسیوں سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ جب سے افغان طالبان اقتدار میں آئے ہیں، تب سے وہ پاکستانی عناد میں مسلسل آگے ہی بڑھتے دیکھے گئے ہیں ۔ اُن کے ہاتھوں سے اب تک سیکڑوں بیگناہ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ہر پریس کانفرنس اِس کی شہادت دیتی ہے ۔

افغان طالبان کی متعدد پاکستان مخالف کارروائیوں کی وجہ سے پاک افغان تعلقات میں کشیدگی آئی ہے تو دوسری طرف افغان طالبان نے تیزی سے ، پاکستان کے مخالف، بھارت سے پینگیں بڑھانے کی دانستہ کوششیں کی ہیں ۔ افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ ( مولوی امیر خان متقی) کا دَورئہ بھارت اور بھارت میں اُن کے پاکستان مخالف بیانات اِس کے ثبوت ہیں ۔ چند دن پہلے افغانستان کی عبوری طالبان حکومت نے بھارت میں اپنا پہلا ناظم الامور( نور احمد نور) بھی مقرر کیا ہے ۔اُنھوں نے بھی پاکستان سے بالا بالا بھارت اور افغانستان میں تجارت کی نئی راہیں اور ایونیوز تلاش کرنے کی سعی کی ہے ، لیکن فی الحال اِس کے امکانات مخدوش اور مشتبہ ہیں ۔

افغان طالبان نے بھارت سے مل کر ایران کی چابہار بندرگاہ سے ، تجارت کے حوالے سے، نئی اُمیدیں لگائی تھیں ، لیکن یہ اُمیدیں بھی خاک میں اُس وقت مل گئیں جب امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے ۔اب بھارت کو بھی سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ وہ ٹریڈ کے حوالے سے افغانستان کی دستگیری کرے تو کیونکر؟اِس پس منظر میں پاک بھارت تعلقات کشیدگی کا جائزہ لینے والوں نے ٹرائیکا( پاکستان ، بھارت ، افغانستان) کی تجارت کا تقابلی و تفصیلی جائزہ لیا ہے تو وہ بھی اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’’ پاکستان کو بائی پاس کرنا افغانستان اور بھارت کے لیے ناممکن ہے ۔‘‘اور اگر پاکستان کو بائی پاس کر کے ، بذریعہ چا بہار بندرگاہ، افغانستان اور بھارت کے درمیان تجارت ہو بھی جاتی ہے تو یہ 40 فیصد زیادہ مہنگی ہونے کے ناتے ویسے بھی دونوں ملکوں کے ٹریڈرز کی کمر توڑ دے گی ۔

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایسے نادر جغرافیے سے نواز رکھا ہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر نہ تو افغانستان و بھارت میں سستی و سہل تجارت ممکن ہے اور نہ ہی پاکستان کے توسط کے بغیر بھارت کسی بھی طرح، وسط ایشیا کی منڈیوں تک اپنے تجارتی پاؤں پھیلا سکتا ہے ۔ مگر افغان طالبان حکام اور اُن کے ’’بہی خواہوں‘‘ کو غلط فہمی ہے کہ وہ پاکستان کے تعاون اور درمیان داری کے بغیر بھی بھارت سے بغلگیر ہو سکتے ہیں ۔ افغان طالبان حکام اِس بارے متعدد بیانات بھی دے چکے ہیں ۔ پچھلے تین ، ساڑھے تین ماہ کے دوران اُنھوں نے اِس ’’غلط فہمی‘‘ کی آزمائش کرکے دیکھ بھی لی ہے ، لیکن حسبِ خواہش کامیاب ( فی الحال) نہیں ہو سکے ہیں ۔

طالبان کو پٹّی پڑھانے والے گروہ مگر مسلسل انھیںیہ باور کروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ’’جب سے پاک افغان سرحد مقفّل ہُوئی ہے، اِس سے پاکستان و پاکستانی تاجروں ہی کو نقصان اُٹھانا پڑ رہے ہیں ، افغانستان و افغان تاجروں کا تو بال بھی بیکا نہیں ہو رہا ہے ۔‘‘ افغان میڈیا کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی ایسی ہی آوازیں ہیں ۔ پاکستان میں ، بد قسمتی سے ، وہ عناصر جنہیں پاکستان سے زیادہ افغان طالبان کے مفادات زیادہ عزیز ہیں ، وہ بھی اِن ’’خبروں‘‘ کو بڑھاوا دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ پاک افغان سرحد کی بندش سے پاکستانی تاجر زیادہ خسارے کا شکار بن رہے ہیں، اس لیے پاکستان کو کسی تاخیر کے بغیر پاک افغان سرحد ( یک طرفہ طور پر ہی سہی) کھول دینی چاہیے ۔ یہ خیال حقائق کے منافی ہے کیونکہ اعداد وشمار دیکھنے اور سُننے سے یہ حقیقت واشگاف ہوتی ہے کہ پاک افغان سرحد کی بندش سے پاکستان اور پاکستانی تاجروں کو کوئی خاص نقصان نہیں ہو رہا ۔

 ہمارے بعض معاصر میں مگر ایسی رپورٹیں بھی شائع ہو رہی ہیں جو اِس امر کی’’ مظہر‘‘ ہیں کہ پاکستانی تاجروں کو بھی کم نقصان نہیں پہنچ رہا ۔ مثال کے طور پر یہ کہا جارہا ہے کہ پاک افغان سرحد کی بندش اور ایران پر نئی امریکی پابندیوں کے کارن پاکستان کی ’’ترشاوہ معیشت‘‘( Citrus Economy) خاصی متاتر ہوئی ہے ۔ بقول شخصے ، پاک افغان سرحد کی بندش سے قبل پاکستان کا کینو ، بذریعہ افغانستان ، وسط ایشیا، رُوس اور یوکرائن تک ، جلد اور سستا ، پہنچ جاتا تھا ۔ مگر اب صورتحال ماضی جیسی نہیں ہے ۔ پہلے پاکستان سے مذکورہ منڈیوں میں کینو زیادہ سے زیادہ 9دنوں میں پہنچ جایا کرتا تھا ۔ مگر اب اِس میں25دن لگ رہے ہیں ۔ اِس پر اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں ۔

کینو برآمد کرنے والے کئی تاجر یہ استدلال بھی پیش کرتے ہیں کہ اگر امریکا نے بھی اقدام کر ڈالا تو کیا ہوگا ؟ امریکا نے اعلان کررکھا ہے کہ جو بھی ملک ایران سے تجارت کرے گا، اُس پر اضافی25فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ایران کے راستے تجارت کرنے والے پاکستانی تاجر تو ’’مارے‘‘ جائیں گے ۔

حکومت نے اعلان تو کیا تھا کہ وہ ’’افغانستان کا متبادل‘‘ دیں گے ، مگر ابھی تک اِس اعلان میں عمل کا رنگ نہیں بھرا جا سکا ۔ پچھلے برسوں میں کینو کی برآمد سے پاکستان ہر سال450ملین ڈالر سے زائد کماتا رہا۔ ۔ جُوس بنانے والی فیکٹریوں کو پہلے جو کینو3ہزار روپے فی من فروخت ہوتا تھا، اب اِس کی قیمت1200روپے فی من لگائی جانے کی اطلاعات ہیں ۔ تقریباًیہی حال افغانستان سے پاکستان آنے والی سبزیوں اور پھلوں کا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ اس میں کس حد تک سچائی ہے۔ جہاں تک سبزیوں کا تعلق ہے تو پاکستان کی منڈی میں یہ وافر موجود ہیں اور ان کے نرخ بھی مناسب ہیں، کینو بھی زیادہ تر مڈل ایسٹ میں جاتا ہے ، اس لیے افغانستان کی سرحد بند ہونے سے پاکستان کی معیشت کو کسی بڑے خسارے کی باتیں محض باتیں ہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاک افغان سرحد کی بندش افغان طالبان پاکستان کی سے پاکستان پاکستان کو پاکستان سے پاکستان کے کے بغیر رہے ہیں ا نھوں سے پاک رہا ہے ہیں کہ کہ پاک

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ