پی آئی اے نجکاری کی دستاویزات پر دستخط کی تقریب‘ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز کی نجکاری سے متعلق حکومت اور عارف حبیب کنسورشیم کے مابین ٹرانزیکشن کے دستاویزات پر دستخط و تبادلے کی تقریب منعقد ہوئی۔ پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز کی نجکاری کے حوالے سے حکومت اور عارف حبیب کنسروشیم کے مابین ٹرانزیکشن کے دستاویزات پر دستخط و تبادلے کی تقریب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک رہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل آج انجام کو پہنچا، پی آئی اے کی نجکاری شفاف انداز میں کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے اپنے عروج پر تھا اس زمانے میں نہ صرف پاکستان کے شہروں میں بلکہ دنیا میں بورڈ لگے ہوتے تھے ’پی آئی اے گریٹ پیپل ٹو فلائی ود مجھے کامل یقین ہے کہ عارف حبیب اور ان کی پوری ٹیم پی آئی اے کو اسی مقام پر لے کر جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی نجکاری پی ا ئی اے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔