سندھ حکومت کا روزگار کی فراہمی کے لیے عالمی ادارے سٹی اینڈ گلڈز کے ساتھ معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن اور جی ای ایم ایس پاتھ ویز کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی تقریب کے دوران صوبائی وزیر جامعات محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ ہمارا وژن نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینا نہیں بلکہ انہیں ایسا ہنر فراہم کرنا ہے جس کی دنیا بھر میں مانگ ہو۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ سندھ حکومت نے لاکھوں ہنرمند نوجوانوں کو بین الاقوامی سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے عالمی ادارے سٹی اینڈ گلڈز کے ساتھ ایک اہم معاہدہ کر لیا ہے۔ وزیر جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی کاوشوں کا نتیجہ ہے، جس کے باعث سندھ کے نوجوانوں کے لیے عالمی روزگار کے دروازے کھل گئے ہیں۔ اس سلسلے میں سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن اور جی ای ایم ایس پاتھ ویز کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تقریب سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں صوبائی وزیر جامعات اسماعیل راہو، سیکریٹری جامعات عباس بلوچ، ٹیکنیکل بورڈ کے چیئرمین مشرف علی راجپوت سمیت صوبے کے مختلف تعلیمی بورڈز کے چیئرمین اور جی ای ایم ایس پاتھ ویز کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر صوبائی وزیر جامعات اسماعیل راہو نے کہا کہ ہمارا وژن نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینا نہیں بلکہ انہیں ایسا ہنر فراہم کرنا ہے جس کی دنیا بھر میں مانگ ہو۔انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت فنی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو یورپ، افریقہ، مشرقِ وسطی اور سعودی عرب میں روزگار کے بہتر مواقع حاصل ہوں گے۔ وزیر جامعات نے مزید کہا کہ جی ای ایم ایس پاتھ ویز کامیاب طلبہ کو متعلقہ ممالک کی لیبر مارکیٹ میں جگہ دلوانے کے لیے بھرپور معاونت فراہم کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب سندھ کے ٹیکنیکل طلبہ کو آئی ٹی، مصنوعی ذہانت (AI)، ہیلتھ کیئر اور انجینئرنگ کے شعبوں میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اسناد فراہم کی جائیں گی۔صوبائی وزیر کے مطابق اس اقدام سے سندھ کی افرادی قوت کا معیار بلند ہوگا اور ملک کے لیے کثیر زرِ مبادلہ کمانے کی راہ ہموار ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسماعیل راہو وزیر جامعات نوجوانوں کو کے لیے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔