9 مئی کے مقدمات کی سماعت پھر ملتوی، عمران خان اور دیگر ملزمان کو چالان کی نقول فراہم نہ ہو سکیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
لاہور: 9 مئی سے متعلق 11 مقدمات کی سماعت ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی، کیونکہ دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ آج بھی ملزمان کو چالان کی نقول فراہم نہیں ہو سکیں۔
نجی میڈیا کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان سمیت سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، علی امین گنڈاپور، شبلی فراز اور عمر ایوب کو بھی چالان کی نقول نہیں مل سکیں۔
سماعت کے دوران عدالت میں عمران خان کی حاضری جیل روبکار کے ذریعے لگائی گئی جبکہ شاہ محمود قریشی کی بھی لاہور جیل سے روبکار حاضری ہوئی۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ 9 مئی کے 11 کیسز میں چالان کی نقول موجود تھیں، تاہم وصول کرنے والے ملزمان غیر حاضر رہے۔
ان مقدمات میں جی ایچ کیو گیٹ نمبر 4 پر حملہ، آرمی میوزیم حملہ، صدر کے علاقے میں حساس عمارت نذر آتش کرنے کے کیسز، میٹرو بس اسٹیشن جلانے اور حساس ادارے کے دفاتر پر حملے شامل ہیں۔
سماعت کے دوران وکلائے صفائی اور سرکاری پراسیکیوٹر بھی پیش ہوئے۔ وکلاء نے عدالت سے اپنے کلائنٹ عمران خان سے ملاقات کی اجازت طلب کی اور بتایا کہ وڈیو لنک سسٹم تین ماہ گزرنے کے باوجود جیل اور کمرہ عدالت میں فعال نہیں ہو سکا۔
عدالت نے تمام گیارہ مقدمات کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چالان کی نقول
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔