فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ کورس کی اختتامی تقریب، سپریم کورٹ کے ججز کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ماتحت عدلیہ کے لیے منعقدہ لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ ٹریننگ کورس کی اختتامی تقریب میں سپریم کورٹ کے ججز جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے خطاب کیا۔ تقریب میں ضلعی عدلیہ کے ججز اور سینیئر عدالتی افسران بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں اصلاحاتی ورکشاپ، عدالتی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ضلعی عدلیہ انصاف کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ججز پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فیصلے ہمیشہ حقائق اور قانون کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، جبکہ غیرجانبداری منصفانہ ٹرائل اور عوامی اعتماد کی بنیاد ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی ایک مضبوط اور فعال ادارہ ہے اور عدلیہ کے فرسودہ قوانین میں فوری ترمیم ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ بوسیدہ عدالتی نظام میں ہر سطح پر اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو بروقت اور مؤثر انصاف فراہم کیا جا سکے۔
ڈی جی فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی نے کہا کہ ضلعی عدلیہ چیف جسٹس کے اصلاحاتی ایجنڈے کا مرکز ہے اور ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پورے نظام میں تبدیلی لا سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: چیف جسٹس کی زیرصدارت اجلاس، عدالتی نظام کو شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے امور کا جائزہ
تقریب کے دوران شرکا نے عدلیہ میں اصلاحات، ٹرائل کے معیار اور عوامی اعتماد کی مضبوطی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جوڈیشل اکیڈمی سپریم کورٹ سپریم کورٹ ججز فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جوڈیشل اکیڈمی سپریم کورٹ سپریم کورٹ ججز فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی سپریم کورٹ نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔