Express News:
2026-07-24@02:38:55 GMT

سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ٹریبونل بنایا جائے

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

سندھ کی حکومت 9 دن تک گل پلازہ کی عمارت کی تلاشی کا کام مکمل نہ کرسکی۔ میئرکے دفتر سے فائر سیفٹی پلان کی فائل سیکریٹری بلدیات کے دفتر تک پہنچتے ہی غائب ہوگئی۔ کراچی میں فرانزک لیب دعوؤں کے باوجود فعال نہ ہوسکی۔ پنجاب کی فرانزک لیب کے ماہرین کی تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے حادثات کی وجوہات کے تعین کے لیے خدمات حاصل کرنی پڑیں۔

پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس سانحے پر سندھ حکومت سے یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے اپنا کارنامہ یاد دلایا کہ لاہور میں کثیر المنزلہ ہوٹل میں لگنے والی آگ کو قابو پانے میں پانچ منٹ کے مختصر وقت میں ریسپانس دیا گیا۔ سندھ حکومت ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات نہ کروا کر اور ایک ماتحت افسر سے اس سانحے کی تحقیقات کروا کر اس سانحہ کو فائلوں میں چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے ماتحت افسر کی تحقیقات کا دائرہ بہت محدود ہوگا۔

سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین کی جانب سے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں سے پورے معاملہ کی تحقیقات کرانے کے مطالبہ کو رد کرنے سے پوشیدہ حقائق کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے ماتحت وزراء کو اپنی قیادت میں ایک کمیٹی میں شامل کرکے اس معاملے کی اہمیت کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے ، مگر پیپلز پارٹی کی قیادت کو یہ احساس نہیں کہ کچھ قوتیں کراچی شہر کو ایک نئے فساد کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے چند ہفتے قبل ایوانِ صدر میں سندھ کی ترقی کا روشن چہرہ پیش کرنے کی غرض سے پریزنٹیشن دی۔ اس حادثے کے بعد یہ پریزنٹیشن فضاء میں تحلیل ہوگئی۔ یہ سوال پھر روزِ روشن کی طرح سیاسی منظرنامہ پر برسوں تک موجود رہے گا کہ اگر اس دفعہ ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے، مستقبل میں ایسے سانحات کا تدارک نہیں ہوسکتا۔ تاریخی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ برطانوی حکومت نے کراچی میں شہریوں کو ٹرم وے کی جدید سہولت فراہم کرنے کے لیے 1815میں محمدی ٹرام وے کمپنی کو لیز دی تھی۔ پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت نے 1975 میں ٹرام سروس کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

کمپنی نے ٹرام کے اسپیئر پارٹس نیلام کر دیے اورکاروبار ختم کر کے زمین کراچی میونسپل کارپوریشن کو منتقل کردی گئی۔ 80 کی دہائی میں جب جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی کراچی کے میئر بنے تو اس زمین کی فروخت کا معاملہ شروع ہوا۔ میئر افغانی نے اس زمین کی خرید و فروخت اور اس پر کمرشل پلازہ تعمیرکرنے کی اجازت دیدی۔ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نے زمین کی لیز کی منتقلی کے دستاویز پر دستخط کیے۔ گل پلازہ کی عمارت 1995 میں تعمیر ہوئی۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں نچلی سطح کے بلدیاتی نظام کا قیام عمل میں آیا اور جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان کراچی کے پہلے بااختیار ناظم بن گئے۔ ان کے دورِ نظامت میں گل پلازہ کی تعمیر کے حتمی مراحل مکمل ہوئے۔

کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تین منزلہ کمرشل عمارت کی تعمیر کی منظوری دی مگر پھر کرپشن کا کلچر مضبوط ہوا۔ گل پلازہ کی انتظامیہ نے تینوں منزلوں پر نقشے سے ہٹ کر دکانیں تعمیرکرنی شروع کیں۔ اصل اجازت 500 دکانوں کی تھی پھر یہ تعداد 1200 تک پہنچ گئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق میزنائن پر سب سے زیادہ 190 دکانیں تھیں اور جب آگ لگی تو خریداروں کا سب سے زیادہ رش اسی منزل پر تھا۔ ایک پولیس افسرکا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں اسی منزل پر ہوئیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس منزل سے سب سے زیادہ لاشیں برآمد ہوئیں۔ اس منزل پر ایک بڑی دکان تھی جہاں سے 30 کے قریب لاشیں ملیں۔ اسی طرح بیسمینٹ میں بہت زیادہ نقصان ہوا۔ گل پلازہ کے دکانداروں کی انجمن بہت فعال تھی۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ ہر دکان سے ہر ماہ 5 ہزار سے زیادہ چندہ وصول کیا جاتا تھا جو رقم سالانہ کروڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔

اس انجمن نے نقشہ سے ہٹ کر دکانیں قائم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ تحقیقات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ عمارت کے 16 دروازوں میں سے بیشتر بند ہوگئے تھے۔ ایک خریدار کا کہنا ہے کہ بازار بند کرنے کا سرکاری وقت رات 8 بجے ہے مگر یہ روایت ہے کہ 9 بجے کے بعد ہر شاپنگ سینیٹر کے دروازے بند کرنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے جو رات 11 بجے تک مکمل ہوتا ہے۔ بعض شاپنگ سینیٹروں میں دکانیں مکمل طور پر بند ہونے کا سلسلہ 12 تک چلا جاتا ہے۔

نامعلوم وجوہات کی بناء پر عمارت کی کھڑکیاں بند تھیں، اگر تمام کھڑکیاں اور دروازے کھلے ہوتے اور ہوا کے گزرنے کا فطری راستہ موجود ہوتا تو اموات کی شرح بہت کم ہوتی۔ گل پلازہ میں بجلی کا نظام مخدوش حالت میں تھا، اگر بجلی کا جدید نظام موجود ہوتا تو پھر اس منزل پر بجلی بند ہوتی جہاں پہلے آگ لگی تھی جب کہ دیگر منزلوں میں بجلی کی سپلائی برقرار رہتی تو بہت سے لوگ عمارت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوجاتے۔

یہ بات واضح ہے کہ نہ تو عمارت میں فائر الام تھا، نہ ہی آگ بجھانے کا جدید نظام موجود تھا اور نہ ہی ہنگامی صورتحال میں عمارت سے باہر نکلنے کے راستے موجود تھے مگر 2026 میں ان حقائق پر بھی ماتم کرنے کی ضرورت ہے کہ بلدیہ کراچی کا ریسکیو کا نظام انتہائی فرسودہ ہے۔ کے ایم سی کے فائر بریگیڈ کے عملے کو جدید طریقوں کے مطابق کبھی تربیت دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ گل پلازہ سے چند میل پر دو بڑے فائر اسٹیشن موجود ہیں۔ ایک کے ایم سی ورکشاپ کے پاس قدیم فائر اسٹیشن ہے اور دوسرا صدر میں ایمپریس مارکیٹ کے قریب ہے مگر ان فائر اسٹیشن پر بجلی موجود نہیں تھی۔

فائر ٹینڈر میں پانی نہیں تھا، اگر فائر بریگیڈ کا عملہ تربیت یافتہ ہوتا، اس کے پاس جدید ترین آلات ہوتے، فائر ٹینڈرز میں وافر مقدار میں پانی ہوتا اور جدید کیمیکل سے تیارکردہ فوم ہوتا۔ فوری طور پر عمارت کی کھڑکیاں اور دروازے کھولنے کے لیے اقدامات ہوتے اور یہ سب کچھ پہلے 3گھنٹوں کے دوران ہوتا تو بہت کم نقصان ہوتا۔ کچھ صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی آگ کو قابو پانے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے جاتے تو بہت سی قیمتی جانیں بچ جاتیں مگر یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہوتا جب امدادی سرگرمیاں ایک سنگل کمانڈ کی نگرانی میں کی جاتیں اور جدید ترین طریقوں کو بروئے کار لایا جاتا ۔

عجیب بات ہے کہ اس جدید دور میں امدادی کارکنوں کو عمارت کے کچھ حصوں میں داخل ہونے کے لیے 23 گھنٹے لگے اور 33 گھنٹوں میں آگ پر کسی حد تک قابو پایا جاسکا۔ فائر بریگیڈ اور ایمبولینس سروس والوں کی یہ شکایت درست ہے کہ ہزاروں افراد گل پلازہ کے گرد جمع رہے جن کا امدادی کاموں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان افراد کی موجودگی کی بناء پر امدادی کاموں میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ شہر کی 500 سے زیادہ عمارتوں میں فائر سیفٹی کا نظام موجود نہیں ہے اور فائر بریگیڈ کے پاس چار منزل سے زیادہ اونچائی پر آگ بجھانے کے لیے جدید آلات نہیں ہیں۔

کراچی میں گزشتہ سال آتشزدگی کے 2500 کے قریب حادثات ہوئے۔ ایک اور المیہ کہ مرنے والے افراد کے لواحقین دس دن تک سول اسپتال اور ڈی سی ساؤتھ کے دفتر کے چکر لگاتے رہے مگر ان کے پیاروں کی باقیات کے بارے کوئی حتمی جواب نہیں دیا گیا، یہ سوال بھی اہم ہے کہ حکومت نے دکانداروں کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے مگر خریداروں کے لواحقین کی تلافی کے لیے کچھ نہیں کہا گیا، ان کے لواحقین کو بھی اتنا ہی معاوضہ ملنا چاہیے کہ جتنا دکانداروں کے لواحقین کو ملے گا، آج یہ سوال بھی انتہائی اہم ہے کہ بازار سردیوں میں شام چھ بجے اورگرمیوں میں شام سات بجے بند کیوں نہیں ہوسکتے۔

اب گل پلازہ کی آتش زدگی کے بعد بھی گزشتہ 10، 12 دنوں میں کراچی شہر میں آتش زدگی کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ 26 جنوری کو ایک اسکول کی عمارت میں اچانک آتشزدگی کے نتیجے میں ایک نوعمر بچہ جاں بحق ہوا۔ عجیب بات یہ ہے کہ گل پلازہ کی آتشزدگی کی وجوہات اور ذمے دار افراد کا محاسبہ پر زور دینے کے بجائے 18ویں ترمیم کی خامیوں اور کراچی کو وفاق کے سپرد کرنے کی بحث شروع ہوگئی ہے جو بے معنی ہے۔ کراچی کا مسئلہ وفاق کی تحویل میں دینے سے نہیں بلکہ نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام اور ایک سپر میونسپل کارپوریشن کے قیام سے ہی حل ہوگا۔

یہی وقت ہے کہ بلدیہ کراچی کی حد پورے شہر پر ہونی چاہیے۔ کونسلر اور یونین کونسل کو بااختیار ہونا چاہیے ۔ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ٹریبونل قائم کرنا چاہیے، اس ٹریبونل میں سندھ ہائی کورٹ کے دو ججز کو شامل کرنا چاہیے اور اس ٹریبونل کی رپورٹ پر مکمل عمل درآمد ہونا چاہیے۔ بالآخر سندھ حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے ایک حاضر جج کو مقررکیا جائے تاکہ وہ قانونی طور پر انکوائری اور جائزہ لیں، لیکن یہ مسئلہ اتنا سنگین و حساس ہے کہ جب تک سپریم کورٹ کے معزز جج کی نگرانی میں ایک کمیشن قائم نہیں کیا جائے گا،اصل حقائق سامنے نہیں آسکیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے فائر بریگیڈ سب سے زیادہ گل پلازہ کی کے لواحقین عمارت کی کرنے کی ہے مگر کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا