وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ قیدی نمبر 804 کے پیچھے گھوم رہا ہے۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران انجینئر امیر مقام نے کہا کہ 8 فروری کو پی ٹی آئی کو 9 مئی دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا وزیر اعلیٰ قیدی نمبر 804 کے پیچھے گھوم رہا ہے، اُس کے پاس عوام اور اُن کے مسائل کےلیے وقت ہی نہیں ہے۔

انجینئر امیر مقام نے مزید کہا کہ صوبے میں لوگ شام کے بعد گھروں سے نہیں نکل سکتے، پختونوں کو سیاست کےلیے استعمال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ہمارے لوگ بارود پر بیٹھے ہیں، وہ محب وطن ہیں، ترقی چاہتے ہیں جبکہ صوبے کی 13 سالہ حکومت نے انہیں ڈبو دیا ہے۔

امیر مقام نے یہ بھی کہا کہ پختون دلیر بہادر لوگ ہیں پاکستان کے محافظ ہیں، تحریک انصاف کا فراڈ ایجنڈہ ختم ہوگیا ہے، صوبے میں جلد نواز شریف کے نظریے کے مطابق حکومت قائم ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ریکارڈ ترقی ہورہی ہے بچوں کو لیب ٹاپ مل رہے ہیں، پختون بھی پنجاب جیسی حکومت مانگ رہے ہیں، لوگ چاہتے ہیں کے پی میں بھی زراعت یونیورسٹیاں ترقی کریں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ملازمین کی تنخواہوں کے پیسے نہیں رہے، صوبائی حکومت کے پاس بھوک فراڈ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں، یہ پہلا کے پی وزیر اعلیٰ ہے جو اپنی حکومت میں احتجاج کرتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کام کے بجائے کبھی لاہور کبھی اسلام آباد گھومتا ہے، قیدی 804 اندر ہی رہے گا، مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا، 8 فروری کو چلے کارتوس جیسا احتجاج ہوگا اسے ہم دیکھ لیں گے۔

امیر مقام نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے اپنے بچے لندن میں بیٹھے ہیں، کے پی میں نہ اسکول نہ اسپتال اور نہ ہی یونیورسٹی بنائی گئی، وزیر اعلیٰ کا کوئی ایجنڈا پورا نہیں ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کہ خیبر پختونخوا وزیر اعلی نے کہا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن