عمران خان کی صحت کے حوالے سے تحفظات ہیں، لائحہ عمل کا جلد اعلان کیا جائے گا، پی ٹی آئی رہنما
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ اور علامہ ناصر عباس سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت اور سیاسی صورتحال کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پولیٹیکل کمیٹی صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو اسپتال لایا گیا مگر صحت سے متعلق کچھ بتایا نہیں جا رہا، اپوزیشن اتحاد کا اظہار تشویش
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارلیمنٹیرینز آج صبح سے اڈیالہ جیل کے باہر موجود ہیں اور کل رات 3 بجے تک اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں اور یہ نظام فسطائیت کا بدترین نمونہ پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 5 دن تک کہا جاتا رہا کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس پاکستان اور ان کے عملے سے ملاقات ہوئی لیکن تسلی بخش جواب ابھی تک حاصل نہیں ہوا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس نظام میں کوئی انسانیت نظر نہیں آتی میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا کہ بند لفافے میں عمران خان اور ان کی بہنوں کو دے دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ سامنے آئے گی تو خاندان فیصلہ کرے گا کہ کس ڈاکٹر کو دکھایا جائے اور کیا اقدام کیا جائے۔
مزید پڑھیے: عمران خان کو اسپتال لائے جانے کے حوالے سے کابینہ کو پیشگی اطلاع دینا ضروری نہیں تھی، رانا ثنااللہ
ان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ میں بہنیں اور رفقا آتے رہے اور بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ناحق قید اور جھوٹی سزائیں ختم کی جائیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آج پولیٹیکل کمیٹی کا اجلاس ہو گا اور آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
’یہ نظام جدوجہد کے ذریعے گرایا جائے گا‘دوسری جانب علامہ ناصر عباس نے کہا کہ اس وقت بزرگ اور خواتین سب جیلوں میں ہیں اور یہ نظام جدوجہد کے ذریعے گرایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں رکھنا پاکستان سے دشمنی کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان وہ اثاثہ ہیں جو تمام صوبوں کو اکٹھا رکھ سکتے ہیں۔ مظلوم کا ساتھ دینا اللہ کو پسند ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کے طبی معائنے پر حکومت کو اہلخانہ کو بروقت آگاہ کرنا چاہیے تھا لیکن یوٹیوبرز کا پروپیگنڈا بھی درست نہیں، عمار مسعود
علامہ ناصر عباس نے بھی کہا کہ پولیٹیکل کمیٹی کے اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ علامہ ناصر عباس عمران خان کی صحت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیرسٹر سلمان اکرم راجہ علامہ ناصر عباس عمران خان کی صحت انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی صحت علامہ ناصر عباس سلمان اکرم راجہ کے حوالے سے لائحہ عمل نے کہا کہ کیا جائے جائے گا
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔