عمران خان کے آنکھوں کے علاج سے متعلق ذاتی معالج ڈاکٹر خرم مرزا کا اہم بیان سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر خرم مرزا نے کہا ہے کہ عمران خان کو انجیکشن لگایا جا چکا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کا علاج پمز کے ماہر ڈاکٹروں نے کیا ہے اور درست علاج کیا ہے۔
ڈاکٹر خرم مرزا نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دورے کا مقصد آنکھ کے پردے (ریٹینا) سے متعلق ان کا شعبہ ہونے کی وجہ سے خود عمران خان کا معائنہ کرنا اور علاج کے حوالے سے مشورہ دینا ہے۔
ڈاکٹر خرم مرزا کے مطابق عمران خان کا علاج پمز (PIMS) کے ماہر ڈاکٹروں نے کیا ہے اور وہ اس علاج کو بالکل درست قرار دیتے ہیں۔
کیس کی تفصیلات اور علاج کی نوعیتڈاکٹر خرم مرزا نے کہا کہ اس وقت کیس کی مکمل تفصیلات ان کے سامنے نہیں ہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ آپریشن کن حالات میں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ریٹینا کے امراض میں بنیادی طور پر آنکھ کے اندر انجیکشن لگانے کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ انجیکشن نہ تو عام جگہ پر لگایا جا سکتا ہے اور نہ ہی غیر طبی ماحول میں۔
انجیکشن صرف آپریشن تھیٹر میںانہوں نے واضح کیا کہ ایسے انجیکشن صرف ہسپتال کے ماحول میں، وہ بھی آپریشن تھیٹر کے اندر لگائے جاتے ہیں۔ عام وارڈ یا کلینک میں یہ ممکن نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر خرم مرزا نے کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ عمران خان کو انجیکشن لگایا جا چکا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔
علاج کے مراحل اور دورانیہڈاکٹر خرم مرزا کے مطابق علاج صرف ایک انجیکشن تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کے مراحل ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عام طور پر ایک انجیکشن کے بعد ایک مہینے کے وقفے سے دوسرا، اور پھر ایک مہینے بعد تیسرا انجیکشن دیا جاتا ہے۔
لیزر علاج کی بھی ضرورت ہو سکتی ہےانہوں نے کہا کہ بعض کیسز میں انجیکشن کے ساتھ ساتھ لیزر علاج بھی ضروری ہو جاتا ہے۔
اصل فیصلہ آنکھ کے مکمل معائنے کے بعد ہی کیا جاتا ہے کہ مریض کو کس نوعیت کے علاج کی ضرورت ہے، اس سے کتنا فائدہ متوقع ہے اور آنکھ کے پردے میں سوجن کی شدت کیا ہے۔ انہی عوامل کو مدِنظر رکھ کر بروقت اور مناسب علاج کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔
معائنے کے لیے آلات سے متعلق وضاحتایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر خرم مرزا نے کہا کہ وہ معائنے کے لیے ضروری آلات کا پورا باکس ساتھ لائے ہیں، تاہم تمام مشینیں لانا ممکن نہیں ہوتا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اصل اور بڑی مشینیں ہسپتال میں ہوتی ہیں اور مریض کو وہاں لے جانا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ وہ آلات یہاں منتقل نہیں کیے جا سکتے۔
البتہ، ان کے مطابق بنیادی آلات کی مدد سے کافی حد تک بیماری کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اور وہ آلات ان کے پاس موجود ہیں۔
ڈاکٹر خرم مرزا نے کہا کہ اگر انہیں اجازت ملی تو وہ عمران خان کا باقاعدہ معائنہ ضرور کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر خرم مرزا نے کہا کہ لگایا جا انہوں نے جاتا ہے آنکھ کے علاج کی ہے اور کیا ہے
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار