پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر خرم مرزا نے کہا ہے کہ عمران خان کو انجیکشن لگایا جا چکا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کا علاج پمز  کے ماہر ڈاکٹروں نے کیا ہے اور درست علاج کیا ہے۔

ڈاکٹر خرم مرزا نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ان کے دورے کا مقصد آنکھ کے پردے (ریٹینا) سے متعلق ان کا شعبہ ہونے کی وجہ سے خود عمران خان کا معائنہ کرنا اور علاج کے حوالے سے مشورہ دینا ہے۔

ڈاکٹر خرم مرزا کے مطابق عمران خان کا علاج پمز (PIMS) کے ماہر ڈاکٹروں نے کیا ہے اور وہ اس علاج کو بالکل درست قرار دیتے ہیں۔

کیس کی تفصیلات اور علاج کی نوعیت

ڈاکٹر خرم مرزا نے کہا کہ اس وقت کیس کی مکمل تفصیلات ان کے سامنے نہیں ہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ آپریشن کن حالات میں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریٹینا کے امراض میں بنیادی طور پر آنکھ کے اندر انجیکشن لگانے کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ انجیکشن نہ تو عام جگہ پر لگایا جا سکتا ہے اور نہ ہی غیر طبی ماحول میں۔

انجیکشن صرف آپریشن تھیٹر میں

انہوں نے واضح کیا کہ ایسے انجیکشن صرف ہسپتال کے ماحول میں، وہ بھی آپریشن تھیٹر کے اندر لگائے جاتے ہیں۔ عام وارڈ یا کلینک میں یہ ممکن نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر خرم مرزا نے کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ عمران خان کو انجیکشن لگایا جا چکا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔

علاج کے مراحل اور دورانیہ

ڈاکٹر خرم مرزا کے مطابق علاج صرف ایک انجیکشن تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کے مراحل ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عام طور پر ایک انجیکشن کے بعد ایک مہینے کے وقفے سے دوسرا، اور پھر ایک مہینے بعد تیسرا انجیکشن دیا جاتا ہے۔

لیزر علاج کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے

انہوں نے کہا کہ بعض کیسز میں انجیکشن کے ساتھ ساتھ لیزر علاج بھی ضروری ہو جاتا ہے۔

اصل فیصلہ آنکھ کے مکمل معائنے کے بعد ہی کیا جاتا ہے کہ مریض کو کس نوعیت کے علاج کی ضرورت ہے، اس سے کتنا فائدہ متوقع ہے اور آنکھ کے پردے میں سوجن کی شدت کیا ہے۔ انہی عوامل کو مدِنظر رکھ کر بروقت اور مناسب علاج کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔

معائنے کے لیے آلات سے متعلق وضاحت

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر خرم مرزا نے کہا کہ وہ معائنے کے لیے ضروری آلات کا پورا باکس ساتھ لائے ہیں، تاہم تمام مشینیں لانا ممکن نہیں ہوتا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اصل اور بڑی مشینیں ہسپتال میں ہوتی ہیں اور مریض کو وہاں لے جانا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ وہ آلات یہاں منتقل نہیں کیے جا سکتے۔

البتہ، ان کے مطابق بنیادی آلات کی مدد سے کافی حد تک بیماری کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اور وہ آلات ان کے پاس موجود ہیں۔

ڈاکٹر خرم مرزا نے کہا کہ اگر انہیں اجازت ملی تو وہ عمران خان کا باقاعدہ معائنہ ضرور کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمران خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر خرم مرزا نے کہا کہ لگایا جا انہوں نے جاتا ہے آنکھ کے علاج کی ہے اور کیا ہے

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی