عمران خان کو ہسپتال لے جانا ضروری، جو بیماری بتائی جارہی ہے اس کے مکمل علاج میں 2 سے 3 سال لگ جاتے ہیں، ڈاکٹر خرم مرزا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر خرم مرزا کا کہنا ہے کہ جو بیماری عمران خان کی آنکھ کے حوالے سے بتائی جارہی ہے اس کا علاج جیل کے اندر ممکن نہیں اس کے لیے باقاعدہ آپریشن تھیٹر لے جانا ضروری ہوتا ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم یوسف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے عمران خان کی آنکھ کے علاج کے امکانات پر بات کی۔ ڈاکٹر خرم مرزا لاہور کے حمید لطیف ہسپتال کے آئی سپیشلسٹ ہیں۔
انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ معائنے کیلئے پورا سامان لے کر آئے ہیں لیکن جو آلات وہ لائے ہیں ان کے ذریعے مکمل علاج نہیں ہوسکتا۔ اس کیلئے بڑی مشینوں کی ضرورت پڑے گی جو کہ ہڈپتال میں ہی ممکن ہوسکتی ہیں۔
تاریخ میں پہلی بار قرضہ مدت سے پہلے واپس کرنا شروع کردیا، مشیروزیرخزانہ
انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود تو معائنہ نہیں کیا لیکن جو معلومات ملی ہیں اس کے مطابق عمران خان کو سی آر وی او کی بیماری ہے۔ اس کیلئے سرجری کی ضرورت نہیں پڑتی البتہ نگرانی اور انجیکشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر خرم مرزا نے واضح کیا کہ اس بیماری میں عام طور پر تین انجیکشن لگتے ہیں لیکن بیماری کی نوعیت کے اعتبار سے اس سے زیادہ انجیکشنز بھی لگانے پڑجاتے ہیں۔ انجیکشن لگانے کے بعد بھی مریض کو مسلسل زیر نگرانی رکھنا پڑتا ہے جس میں دو سے تین سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ڈاکٹر خرم مرزا انہوں نے
پڑھیں:
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
اڈیالا جیل راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی زوجہ محترمہ کی ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی، ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے وکلاء اور فیملی ارکان میں سے کسی بھی شخص کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ اسلام ٹائمز۔ اڈیالا جیل راولپنڈی میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروا دی گئی۔ جیل ذرائع کے مطابق ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی، ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے وکلاء اور فیملی ارکان میں سے کسی بھی شخص کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی، شفیع جان، مینا خان آفریدی فیکڑی ناکے پر موجود رہے، بانی کی تینوں بہنیں کارکنان کی کثیر تعداد کے ہمراہ فیکٹری ناکے پر موجود رہیں۔