اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک موقف: مسئلہ فلسطین خطے کے عدم استحکام کی جڑ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
اقوام متحدہ میں پاکستان نے مسئلہ فلسطین کو مشرق وسطیٰ میں جاری بے یقینی اور عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ، جبری نقل مکانی اور تباہی ناقابل قبول ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں تشویشناک ہیں اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی تنصیبات اور یو این آر ڈبلیو اے پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
عاصم افتخار نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت طے شدہ امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری اور مستقل جنگ بندی کی جائے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جائے اور غزہ کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر نو کا آغاز کیا جائے۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو ناگزیر سمجھتا ہے، جو 1967 کی سرحدوں کے اندر ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی ہر صورت قائم رہے گی۔
عاصم افتخار نے اسرائیل سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ شام اور لبنان میں اپنی غیر قانونی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے، کیونکہ اس طرح کے اقدامات پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔