Islam Times:
2026-07-24@10:05:16 GMT

مسئلہ فلسطین خطے کے عدم استحکام کی جڑ قرار

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

مسئلہ فلسطین خطے کے عدم استحکام کی جڑ قرار

عاصم افتخار نے واضح کیا کہ پاکستان ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو ناگزیر سمجھتا ہے، جو 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ میں پاکستان نے مسئلہ فلسطین کو مشرق وسطیٰ میں جاری بے یقینی اور عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ، جبری نقل مکانی اور تباہی ناقابل قبول ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں تشویشناک ہیں اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی تنصیبات اور یو این آر ڈبلیو اے پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت طے شدہ امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری اور مستقل جنگ بندی کی جائے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جائے اور غزہ کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر نو کا آغاز کیا جائے۔
عاصم افتخار نے واضح کیا کہ پاکستان ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو ناگزیر سمجھتا ہے، جو 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کسی بھی صورت متزلزل نہیں ہو سکتی۔ پاکستانی مندوب نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ شام اور لبنان میں بھی اپنی غیر قانونی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے، کیونکہ ایسے اقدامات پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کیا کہ

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار