Jasarat News:
2026-07-24@03:48:20 GMT

قیدی نمبر 650: ایک گمشدہ ماں کی کہانی

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260130-03-7
قیدی نمبر 650؛ ایک گمشدہ ماں کی کہانی ہے، 2003کی ایک سہ پہر کراچی کے علاقے گلشن ِ اقبال سے ایک ماں کو اس کے تین معصوم بچوں سمیت اس وقت اٹھا لیا گیا جب وہ خریداری کے لیے جا رہی تھی۔ نہ کوئی ایف آئی آر درج کی گئی، نہ وارنٹ دکھایا گیا اور نہ ہی کوئی الزام سامنے آیا۔ خفیہ ایجنسیاں آئیں اور چند ہی لمحوں میں وہ خاتون اور اس کے بچے معمول کی زندگی سے غائب ہو گئے۔ اسی رات انہیں خاموشی کے ساتھ پاکستان کی سرزمین سے نکال کر بگرام بیس کے ذریعے ایک امریکی فوجی اڈے پر منتقل کر دیا گیا۔ یہ خبر پہلی مرتبہ برطانوی صحافی یوان رڈلے نے دنیا کے سامنے رکھی، جب انہوں نے امریکی حراستی مرکز کا دورہ کیا۔ وہاں قید خواتین کے بارے میں معلومات کے دوران ایک خاتون کا ذکر سامنے آیا، جسے قیدی نمبر 650 کہا جا رہا تھا۔ بعد ازاں اسی معاملے پر ہیومین نیٹ ورک پاکستان نے مجھے پر یہ ذمے داری سونپی کہ میں اس پراسرار قیدی خاتون کے بارے میں ایک کتابچہ تیار کروں۔ یوں عافیہ صدیقی کے بارے میں پہلا معلوماتی کتابچہ ’’قیدی نمبر 650‘‘ کے عنوان سے وجود میں آیا۔ یہ کتابچہ بعد میں جماعت ِ اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سامنے پیش کیا۔ اس اشاعت کا سفر ہرگز آسان نہ تھا۔ دباؤ، رکاوٹیں اور خاموش دھمکیوں سمیت کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمہ کا جائزہ لیا جائے تو یہ قانونی خامیوں، عدالتی تضادات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پلندہ ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ اکیسویں صدی کے متنازع ترین قانونی معاملات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ کیس صرف ایک فرد کی سزا کا معاملہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق، شفاف عدالتی عمل اور ریاستی ذمے داریوں سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی، پاکستانی نیورو سائنسدان، کو 2003 میں پاکستان سے زبردستی اٹھایا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد کئی برس تک ان کا کوئی قانونی ریکارڈ موجود نہیں رہا، جسے بین الاقوامی قانون میں زبردستی گمشدگی تصور کیا جاتا ہے۔ اس عرصے میں انہیں بٹگرام ایر بیس افغانستان میں رکھا گیا۔ بعد ازاں انہیں امریکا منتقل کر کے مقدمہ چلایا گیا، جو عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بنا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری کی بغیر وارنٹ، بغیر فردِ جرم، اور بغیر کسی عدالتی کارروائی کے عمل میں لائی گئی۔ 2003 سے 2008 تک ان کا کوئی باضابطہ قانونی وجود تسلیم نہیں کیا گیا، جو اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے زبردستی گمشدگی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کو بگرام ایر بیس میں خفیہ حراست میں رکھا گیا، جہاں: انہیں وکیل تک رسائی نہیں دی گئی۔ خاندان سے ملاقات ممنوع رہی، عدالتی نگرانی موجود نہیں تھی۔ اس دوران انہیں قیدی نمبر 650 یا ’’گرے لیڈی‘‘ کہا جاتا تھا، جو انسانی وقار اور قانونی شناخت کی نفی ہے۔ اہم امر یہ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ پر دہشت گردی کا مقدمہ نہیں چلایا گیا بلکہ امریکی فوجیوں پر فائرنگ کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ تاہم اسلحہ پر ان کے فنگر پرنٹس موجود نہیں تھے۔ گواہوں کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔ کوئی امریکی فوجی زخمی نہیں ہوا۔ یہ تمام عوامل مقدمے کی بنیاد کو کمزور کرتے ہیں۔

مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد پر غور کیا جائے تو بیلسٹک طور پر غیر حتمی تھے۔ گولی کے نشانات سے واضح نہیں ہوتا کہ فائر کس نے کیا۔ وقوعہ کے حالات غیر واضح اور متنازع تھے۔ تحقیقی معیار کے مطابق ایسے شواہد کسی سنگین سزا کے لیے ناکافی سمجھے جاتے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران متعدد ماہرین نے ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی صحت، شدید صدمے (PTSD)، اور نفسیاتی عدم استحکام کی نشاندہی کی، مگر اس کے باوجود عدالت نے انہیں مقدمہ لڑنے کے قابل قرار دیا، جو منصفانہ سماعت کے اصول سے متصادم ہے۔ اس طرح ڈاکٹر عافیہ کے بچوں، خصوصاً چھوٹے بیٹے سلمان کی گمشدگی کو عدالت نے مقدمے کا حصہ بنانے سے انکار کیا، حالانکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت یہ ایک سنگین معاملہ تھا یہ مقدمہ سیاسی ماحول اور تعصب کی مثال ہے۔ یہ مقدمہ 9/11 کے بعد کے ماحول میں چلا، جہاںاسلاموفوبیا، سیکورٹی بیانیہ، اور میڈیا ٹرائل نے غیر جانبدار عدالتی فیصلے کو متاثر کیا۔ ایک مسلمان خاتون کی شناخت نے جیوری اور رائے عامہ پر واضح اثر ڈالا۔ دوسری جانب یہ غیر متناسب سزا ہے، جو کسی جانی نقصان کے بغیر86 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ امریکی عدالتی نظائر کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر سخت ہے، جو سزا اور جرم کے تناسب کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔ ویانا کنونشن آن قونصلر ریلیشنز کی کھلی خلاف ورزی تھی، جس سے ملزم کے دفاعی حقوق متاثر ہوئے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ محض ایک فوجداری کیس نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق، اور عدالتی شفافیت کے لیے ایک آزمائش ہے۔ اس مقدمے میں موجود قانونی خامیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انصاف کا عمل سیکورٹی اور سیاسی مفادات کے تابع ہو گیا۔ اس کیس کا غیر جانبدارانہ ازسرِنو جائزہ نہ صرف ڈاکٹر عافیہ کے لیے بلکہ عالمی انصاف کے نظام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

آج 23 برس گزر چکے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی آج بھی قید ہیں، اور ان کی رہائی اب تک ایک نامکمل خواب بنی ہوئی ہے۔ یہ محض ایک خاتون کی قید کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ماں، ایک بیٹی اور ایک قوم کے اجتماعی ضمیر کی آزمائش ہے۔ امریکا کی جیلوں میں گزشتہ 23 برس سے قید پاکستانی نیورو سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی زندہ مثال بن چکا ہے۔ ان کی رہائی اور لاپتا بچے کی بازیابی اب ایک عالمی مطالبہ بن چکی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کو 2003 بگرام ایر بیس منتقل کر دیا گیا تھا۔ وہاں انہیں خفیہ حراست میں رکھا گیا۔ ڈاکٹر عافیہ کے تین بچوں میں سے بڑا بیٹا احمد اور بیٹی مریم 2010 میں پاکستانی حکام کے حوالے کیے گئے۔ احمد نے قرآنِ مجید حفظ کیا اور تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ تاہم ان کا چھوٹا بیٹا سلمان، جو 2003 میں پیدا ہوا، آج تک لاپتا ہے۔ اس کی کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں، جو انسانی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس وقت ڈاکٹر

عافیہ ٹیکساس کی FMC Carswell جیل میں قید ہیں، جہاں انہیں تشدد، جنسی ہراسانی اور مذہبی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کرنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے 2024 میں امریکی صدر کو ان کی رہائی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے خط بھی لکھا گیا، جبکہ عدالتی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ مسلم دنیا، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور پاکستانی عوام مسلسل ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر اب تک کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔ یہ کیس امریکی نظامِ انصاف کے دعوؤں کو براہِ راست چیلنج کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک پاکستانی ماں کو کبھی انصاف مل سکے گا؟

عطامحمد تبسم سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر عافیہ صدیقی بین الاقوامی ان کی رہائی موجود نہیں حقوق کی کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف