چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے سلمان اکرم راجا کی 30 منٹ طویل ملاقات، ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ملاقات پی ٹی آئی رہنما نے اپنے تحفظات رکھے۔
بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر سلمان اکرم راجا نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی ہے۔
اس معاملے میں سلمان اکرم راجا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور سردار لطیف کھوسہ سپریم کورٹ پہنچے تھے۔
ذرائع کے مطابق سلمان اکرم راجا اور لطیف کھوسہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے بعد اٹارنی جنرل سے بھی ملاقات کی تھی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ حکومت اگر مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے تو اپنا انداز بدلے۔
ذرائع کے مطابق سلمان اکرم راجا اور چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ملاقات 30 منٹ سے زائد جاری رہی، جس میں پی ٹی آئی رہنما نے اپنے تحفظات رکھے۔
ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ بات آپریشن اور اڈیالہ سے پمز لانے تک پہنچ گئی اور بتایا تک نہیں گیا، پمز اسپتال میں کوئی ریٹینا اسپیشلسٹ ہے ہی نہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا بانی پی ٹی آئی کو بنیادی انسانی حقوق نہیں دیے جا رہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق حکومتی حلقے 5 دن تک جھوٹ بولتے رہے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت ہماری ریڈ لائن ہے، رجسٹرار کو کہہ دیا کہ ہمارے تحفظات چیف جسٹس تک پہنچا دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجا پی ٹی ا ئی چیف جسٹس نے کہا
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔