بانیٔ پی ٹی آئی کو ہفتے کی شام اڈیالہ جیل سے پمز اسپتال لانا خفیہ رکھا گیا: سلمان اکرم راجہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
سلمان اکرم راجہ—فائل فوٹو
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ کی سرجری ہوئی ہے، بانیٔ پی ٹی آئی کو ہفتے کی شام اڈیالہ جیل سے پمز اسپتال لانے کو خفیہ رکھا گیا۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کے ہمراہ سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کی۔
اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق حکومتی حلقے 5 دن تک جھوٹ بولتے رہے، کل حکومت نے تسلیم کیا تو ہم اڈیالہ جیل گئے، کل بانیٔ پی ٹی آئی کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم اور آئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر خرم اڈیالہ جیل آئے، بانی کے خاندان کو نہیں بتایا گیا کہ ان کو کس وجہ سے اسپتال لے جایا گیا۔
عدالتی فیصلوں کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ہماری ملاقات نہیں کروائی گئی، سلمان اکرم راجہ
سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے باہر 200 پارلیمنٹیرینز موجود ہیں، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم یہاں بیٹھیں گے، اگر بانیٔ پی ٹی آئی کو بنیادی حقوق نہیں مل رہے تو کسی کو میسر نہیں آئیں گے، بانیٔ پی ٹی آئی کو بنیادی انسانی حقوق نہیں دیے جا رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لطیف کھوسہ اور میں کچھ دیر پہلے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملنے گئے، چیف جسٹس پاکستان اپنے چیمبر میں موجود نہیں تھے، ملاقات نہیں ہو سکی، چیف جسٹس پاکستان کی ہدایت پر رجسٹرار سے ملاقات کی۔
سلمان اکرم راجہ نے یہ بھی کہا کہ رجسٹرار جو خود سیشن جج ہیں ان کے گوش گزار تمام صورتِ حال کی ہے، اٹارنی جنرل کو بھی تمام صورتِ حال بتائی ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو 16 درخواستیں دے چکے ہیں کوئی ایکشن نہیں ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجہ نے پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل چیف جسٹس
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔