سلمان اکرم راجہ—فائل فوٹو 

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ کی سرجری ہوئی ہے، بانیٔ پی ٹی آئی کو ہفتے کی شام اڈیالہ جیل سے پمز اسپتال لانے کو خفیہ رکھا گیا۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کے ہمراہ سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کی۔

اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق حکومتی حلقے 5 دن تک جھوٹ بولتے رہے، کل حکومت نے تسلیم کیا تو ہم اڈیالہ جیل گئے، کل بانیٔ پی ٹی آئی کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم اور آئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر خرم اڈیالہ جیل آئے، بانی کے خاندان کو نہیں بتایا گیا کہ ان کو کس وجہ سے اسپتال لے جایا گیا۔

بانی کی صحت کے حوالے سے خبریں تشویشناک ہیں: رہنما پی ٹی آئی

عدالتی فیصلوں کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ہماری ملاقات نہیں کروائی گئی، سلمان اکرم راجہ

سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے باہر 200 پارلیمنٹیرینز موجود ہیں، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم یہاں بیٹھیں گے، اگر بانیٔ پی ٹی آئی کو بنیادی حقوق نہیں مل رہے تو کسی کو میسر نہیں آئیں گے، بانیٔ پی ٹی آئی کو بنیادی انسانی حقوق نہیں دیے جا رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لطیف کھوسہ اور میں کچھ دیر پہلے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملنے گئے، چیف جسٹس پاکستان اپنے چیمبر میں موجود نہیں تھے، ملاقات نہیں ہو سکی، چیف جسٹس پاکستان کی ہدایت پر رجسٹرار سے ملاقات کی۔

سلمان اکرم راجہ نے یہ بھی کہا کہ رجسٹرار جو خود سیشن جج ہیں ان کے گوش گزار تمام صورتِ حال کی ہے، اٹارنی جنرل کو بھی تمام صورتِ حال بتائی ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو 16 درخواستیں دے چکے ہیں کوئی ایکشن نہیں ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجہ نے پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل چیف جسٹس

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق