بانی کو آنکھ میں انفیکشن نہیں، سینٹرل ریٹینا وین آکلوژن ہے: ڈاکٹر خرم مرزا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسلام آباد ( طارق محمود سمیر)بانی کے ذاتی معالج ڈاکٹر خرم مرزا نے فیکٹری ناکہ کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بانی کو آنکھ میں کوئی انفیکشن نہیں بلکہ انہیں سینٹرل ریٹینا وین آکلوژن (CRVO) کا مسئلہ درپیش ہے۔
ڈاکٹر خرم مرزا کا کہنا تھا کہ یہ ریٹینا سے متعلق بیماری ہے اور اس کی مکمل نوعیت معائنہ کیے بغیر بتانا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق جن ڈاکٹرز نے اب تک بانی کا علاج کیا ہے، انہوں نے درست علاج کیا ہے، تاہم وہ خود اس کی تفصیلات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ CRVO کے علاج میں بنیادی طور پر آنکھ کے اندر انجیکشن لگانے کی ضرورت ہوتی ہے، جو کسی عام جگہ پر نہیں بلکہ صرف اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں ہی لگایا جا سکتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق بانی کو ایک انجیکشن لگ چکا ہے، جبکہ عموماً ایک ماہ بعد دوسرا اور پھر تیسرا انجیکشن درکار ہوتا ہے۔ بعض کیسز میں مزید انجیکشنز اور لیزر ٹریٹمنٹ کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔
ڈاکٹر خرم مرزا کے مطابق اصل صورتحال آنکھ کا معائنہ کرنے کے بعد ہی واضح ہو سکتی ہے، جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ریٹینا میں سوجن کتنی ہے اور علاج کی فوری ضرورت کس حد تک ہے۔ بروقت اور درست علاج پلان کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریٹینا کے ماہر ہیں اور معائنے کے بعد ہی کسی علاج کی تجویز دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے مطابق CRVO میں کوئی آپریشن نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک مسلسل علاج کا عمل ہے جس میں بعض اوقات تین سال تک باقاعدہ فالو اپ ضروری ہوتا ہے۔ اس بیماری میں آنکھ میں خون کی روانی متاثر ہو جاتی ہے اور آنکھ کا پریشر بڑھ سکتا ہے، جبکہ بلڈ پریشر اور ذہنی دباؤ بھی اس کی وجوہات میں شامل ہیں۔
ڈاکٹر خرم مرزا نے خبردار کیا کہ اگر CRVO کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو بینائی متاثر ہو سکتی ہے، اسی لیے مریض کا ریگولر چیک اپ بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال میں موجود تشخیصی سہولیات اور ٹیسٹ یہاں ممکن نہیں، اس لیے مکمل تشخیص کے لیے اسپتال کا ماحول ضروری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ بانی کے معائنے کے لیے ضروری آلات ساتھ لائے ہیں، تاہم مکمل سامان لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق بانی کی آنکھ کا معائنہ کرنے کے بعد ہی یہ طے ہو سکے گا کہ انہیں کس نوعیت کے علاج کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈاکٹر خرم مرزا انہوں نے کے مطابق علاج کی
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔