عمران خان کو کچھ ہوا تو پورا پاکستان ہل جائے گا: چیئرمین پی ٹی ائی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور جیل میں قیام سے متعلق صورتحال انتہائی سنگین ہے اور اگر انہیں کوئی نقصان پہنچا تو پورا ملک ہل جائے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی ائی بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت پر زور دیا کہ شوکت خانم ہسپتال کے معالجین کو بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم کو بھی ملاقات کا موقع فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ محض سیاسی محاذ آرائی کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور عوامی شعور کا مسئلہ ہے، الیکشن یا سیاسی معاملات کے حوالے سے حکومت سے کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور یہ محض افواہیں ہیں، جن پر یقین نہ کیا جائے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور قانون دان ڈاکٹر بابر اعوان نے بھی بانی پارٹی کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا کہ عمران خان کو معمولی مسئلے کے سبب رات کو پمز ہسپتال لایا گیا، لیکن حقیقت میں انہیں کسی بڑے مسئلے کی وجہ سے اسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پورے پاکستان کے عوام کے لیے ایک رہنما ہیں اور ان کی فوری رہائی اور مناسب طبی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، نواز شریف کی صحت کے حوالے سے خبریں دن رات چلائی جاتی تھیں، جس میں بتایا جاتا تھا کہ ان کی طبیعت ناساز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال دن بہ دن خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور اگر بانی پی ٹی آئی کی صحت کے بارے میں شفاف رپورٹ منظر عام پر نہ لائی گئی تو نتائج مہلک ہو سکتے ہیں، اگر بانی پی ٹی آئی کو کوئی نقصان پہنچا تو موجودہ حکومت اسکی ذمہ دار ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے عوام یہ پوچھ رہے تھے کہ گولی کیوں چلائی گئی، اور اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ بیماری کیوں چھپائی گئی؟ بشریٰ بی بی جیسے دیگر رہنما بھی اسپتال نہیں لائے گئے، لیکن بانی پی ٹی آئی کی زندگی کی حفاظت اور صحت کی صورتحال پر پوری قوم کی توجہ مرکوز ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کی صحت کہا کہ
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔