Express News:
2026-07-24@01:53:19 GMT

مغرب کو بالاخر بین الاقوامی اخلاقیات یاد آ گئی

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ نے سرخ سوویت خطرہ ٹالنے کے لیے امریکی قیادت میں پینتالیس برس سرد جنگ لڑی۔ اب اسی یورپ کو روس کے ساتھ ساتھ امریکا سے بھی خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔نوبت یہاں تک آ چکی ہے کہ امریکا کا سب سے قریبی روائیتی اتحادی برطانیہ ٹرمپ سے کھل کے احتجاج کر رہا ہے کہ انھوں نے ڈیووس فورم پر امریکا کے شانہ بشانہ لڑنے اور مرنے والے برطانوی اور دیگر یورپی فوجیوں کی قربانی کی توہین کی ہے۔

ناٹو اتحاد کے ایک بانی رکن اور امریکی ہمسائیہ کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے تو بنا الفاظ چبائے کھل کے کہہ دیا ہے کہ امریکا سے اختلاف نہیں بلکہ تعلقات میں ایسا شگاف پڑ گیا ہے کہ جس کی بھرپائی بہت مشکل ہو گی۔کینیڈا اس مفروضے پر ایک نیا فوجی ڈاکٹرائین تشکیل دے رہا ہے کہ کل کلاں امریکی افواج کینیڈا جیسے وسیع و عریض ملک پر دو ہفتے میں قبضہ کر لیتی ہیں تو کینیڈا روائیتی جنگ میں امریکی طاقت کے سامنے نہیں ٹھہر پائے گا۔تاہم کم از کم چالیس ہزار محبِ وطن کینیڈینز کی ایک شہری ملیشیا بنائی جا سکتی ہے جو افغان مجاہدین اور طالبان کی طرز پر امریکا کو اتنا زچ کرے کہ وہ ایک دن اپنی فوجیں کینیڈا سے نکالنے پر مجبور ہو جائے ( دیگر ناٹو ارکان کی طرح کینیڈا نے بھی نائن الیون کے بعد افغانستان پر قبضے میں امریکا کا ساتھ دیا اور کینیڈا کے ڈیڑھ سو سے زائد فوجی افغانوں کے ہاتھوں مرے )۔

 ایک اور ناٹو اتحادی ڈنمارک کو گرین لینڈ پر ٹرمپ کے ممکنہ قبضے کے حوالے سے اپنے لالے پڑے ہیں۔یورپ کے دیگر ممالک بھی بین الاقوامی نظام ، ریاستی خود مختاری ، سرحدوں کے تقدس ، پرامن بقاِ باہمی ، طاقتور ممالک کے جارحانہ عزائم ، بین الاقوامی قوانین ، عالمی اداروں کی بقا ، عدم جارحیت اور ایک آزاد جمہوری دنیا کی تشکیل کے لیے اپنی اپنی قربانیوں کی دہائی دے رہے ہیں۔حالانکہ یہی یورپ سفارتی ، سیاسی اور اقتصادی طاقت کے اندھے استعمال میں چند روز پہلے تک امریکا کی بی ٹیم بنا ہوا تھا اور کمزور ایفرو ایشیائی دنیا کی جانب سے بین الاقوامی سسٹم کے احترام کے مطالبے پر ہنس رہا تھا۔

 ڈنمارک کو آج گرین لینڈ کے معاملے پر عدل و انصاف اور ریاستی احترام بری طرح یاد آ رہا ہے مگر اس کے منہ سے فلسطینیوں کے حقِ خود ارادی کی کبھی پھوٹے منہ بھی بات نہ نکلی۔ ڈنمارک اب بھی ایف تھرٹی فائیو طیاروں کے فاٰضل پرزے تیار کرنے کے بین الاقوامی پروجیکٹ کا حصہ ہے جن طیاروں سے اسرائیل غزہ سمیت اردگرد کے علاقوں میں نسل کشی کر رہا ہے۔

جب ڈینش وزیرِ اعظم میٹ فریڈرکسن سے کچھ عرصہ قبل کسی صحافی نے پوچھا کہ اگر نیتن یاہو کوپن ہیگن میں اترتا ہے تو کیا آپ بین الاقوامی جرائم کی عالمی عدالت کے دائرہِ اختیار کو تسلیم کرنے والی ریاست کے طور پر عدالتی وارنٹ پر عمل کرتے ہوئے نیتن یاہو کو گرفتار کریں گے ؟ وزیرِ اعظم فریڈرکسن کے جواب کا لبِ لباب یہ تھا کہ ’’ چونکہ چنانچہ اگر مگر لہذا آئیں بائیں شائیں…‘‘

امریکا گرین لینڈ اور کینیڈا پر حقِ ملکیت جتانے کے لیے وہی کچھ تو کر رہا ہے جو اس نے یورپ کی سامراجی طاقتوں کی تاریخ سے سیکھا ہے۔یعنی دنیا پر کنٹرول کی جنگ میں بین الاقوامی تکلفات برطرف ہو جاتے ہیں۔یہی تو وہ آئینہ ہے جو مغرب پانچ سو برس سے باقی کمزور دنیا کو دکھاتا رہا اور اب اس آئینے میں اپنا ہی اترا ہوا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔

 ڈنمارک اور اس کے یورپی ساجھے داروں کو اب پتہ چل رہا ہے کہ کسی بھی ریاست کا علاقہ برائے فروخت نہیں ہوتا یا بین الاقوامی قوانین کو ہر ملک پر مساوی لاگو ہونا چاہیے۔ ڈنمارک اور اس کے ساتھیوں کو یہ اصول تب یاد نہ آیا جب اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے برعکس وسیع تر تباہی پھیلانے والے افسانوی ہتھیاروں کی تباہی کے لیے اس نے عراق میں امریکیوں پر اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے تئیس برس پہلے اپنے فوجی دستے تبرکاً دان کیے تھے۔یہی کارِ خیر ڈنمارک ، جرمنی ، فرانس ، کینیڈا ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ وغیرہ نے نائن الیون کے بعد افغانستان میں انجام دیا۔

 لیبیا میں کرنل قذافی کی حکومت تتربتر کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے ان سب ممالک نے امریکی فضائیہ کی قیادت میں لیبیا کو تباہ کر کے اسے بانٹنے میں حصہ نہیں ڈالا ؟ شام کی عوامی مزاحمت کو اپنے مخصوص مقاصد کے تحت ڈھالنے کے کام میں ڈنمارک سمیت یورپی ممالک نے ہاتھ بٹا کر شامی ریاست کو علاقائی طاقتوں کے رحم و کرم کے دروازے تک نہیں پہنچا دیا ؟ آج وہی شام اپنے ٹکڑے دوبارہ سے جوڑنے کی تگ و دو میں ہے اور مغربی حمائیت یافتہ اسرائیل مسلسل گردن پر گرم گرم پھونکیں مار رہا ہے۔

 اس وقت ڈنمارک کو گرین لینڈ کے حوالے سے جو براہ راست امریکی خطرہ درپیش ہے وہ ناانصافی نہیں مکافاتِ عمل ہے۔ٹرمپ امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کی جس عالمی پالیسی پر عمل پیرا ہے وہ بلاامتیاز ہے۔مگر یورپ کو اب یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ بین الاقوامی قوانین و نظائر بلا امتیاز کیسے ہو سکتے ہیں۔جو توسیع پسندانہ پالیسیاں بین الاقوامی انتظام کے خوشنما پردے میں باقی دنیا کو محکوم بنانے کے لیے تشکیل دی گئی تھیں وہ خود ہم پر کیسے لاگو ہو سکتی ہیں ؟ اور یہ کہ گرین لینڈ کا اقتدارِ اعلی تو مقدس ہو مگر ترقی پذیر دنیا کے اقتدارِ اعلی کی ٹھینگے برابر اہمیت نہ ہو۔

اس رام کتھا میں سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ کسی طاقتور سلطنت کے اردلی بننے کے باوجود بھی کوئی ضمانت نہیں کہ ایک دن جب اس ایمپائر کو ضرورت ہو تو وہ حلیفوں کو ہی اپنی توسیع پسندانہ بھوک کا نوالہ بنا لے۔اندھی وفاداری کا صلہ ہمیشہ دائمی تحفظ کی شکل میں ہی ملتا رہے۔یہ ضروری تو نہیں۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی گرین لینڈ کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف